تحریر: جنید خالد اور ڈاکٹر خالد خان
رات کی سڑک پر گاڑی چلانے والا ہر شخص ایک غیر تحریری معاہدے کا حصہ ہوتا ہے: وہ اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کرے گا، مگر دوسروں کی سلامتی کا حق بھی تسلیم کرے گا۔ جب سامنے سے آنے والی گاڑی کی ہیڈلائٹس اچانک آنکھوں پر شدید روشنی ڈالتی ہیں تو یہ معاہدہ ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ ڈرائیور کو سڑک کی حد، سامنے موجود موٹر سائیکل یا کنارے پر چلنے والا پیدل شخص چند لمحوں کے لیے واضح نظر نہیں آتا۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون سا بلب زیادہ روشن ہے؛ سوال یہ ہے کہ ہمارے بازار، قواعد اور رویے مل کر سڑک کو کتنا محفوظ بناتے ہیں۔پاکستان میں تیز ایل ای ڈی بلب، ہائی انٹینسٹی لیمپ اور اضافی لائٹنگ بارز کی مقبولیت حیرت انگیز نہیں۔ یہ نسبتا سستے، آسانی سے دستیاب اور جلد تبدیل ہو جاتے ہیں۔ خراب اسٹریٹ لائٹنگ، مدھم روڈ مارکنگ اور غیر ہموار راستوں پر ڈرائیور اپنے لیے زیادہ روشنی چاہتا ہے۔ لیکن اس ضرورت کا حل وہ نہیں ہونا چاہیے جو سامنے سے آنے والے شخص کی نظر متاثر کر دے۔ ایک گاڑی کے لیے زیادہ روشنی، پوری سڑک کے لیے زیادہ تحفظ کے برابر نہیں۔یہاں ایک اہم تکنیکی غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ ہر ایل ای ڈی ہیڈلائٹ خطرناک نہیں۔ درست انجینئرنگ، مناسب بیم پیٹرن اور صحیح زاویے والی جدید ہیڈلائٹس سڑک بہتر دکھا سکتی ہیں اور توانائی بھی بچاتی ہیں۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب کسی گاڑی کے اصل ریفلیکٹر میں غیر موزوں طاقتور بلب لگا دیا جائے، روشنی کا زاویہ بلند ہو، یا اضافی لیمپ بغیر ضرورت اور مناسب کنٹرول کے استعمال کیے جائیں۔ بلب اور ہیڈلائٹ ہاسنگ ایک مکمل بصری نظام کے حصے ہیں؛ ایک حصے کی تبدیلی پورے نظام کے نتائج بدل سکتی ہے۔ماہرین دو طرح کی چکاچوند کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک ایسی روشنی جو آنکھوں میں تکلیف اور توجہ میں خلل پیدا کرے، دوسری وہ جو اشیا کا فرق اور راستے کی تفصیل دیکھنے کی صلاحیت عارضی طور پر کم کر دے۔ رات میں یہ فرق خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر گاڑی ایک سیکنڈ میں تقریبا . میٹر چلتی ہے۔ نظر کی عارضی دشواری کے دوران طے ہونے والا فاصلہ ہمیں احتیاط کی ضرورت سمجھاتا ہے۔ تاہم یہ کہنا بھی غیر ذمہ دارانہ ہوگا کہ ہر تیز ہیڈلائٹ کسی مہلک حادثے کی وجہ ثابت ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اس تعلق پر منظم، قابلِ رسائی اعدادوشمار کی ضرورت ہے۔بین الاقوامی شواہد بھی توازن سکھاتے ہیں۔ امریکہ کے انشورنس انسٹی ٹیوٹ فار ہائی وے سیفٹی کی تحقیق میں بہتر کارکردگی والی ہیڈلائٹس کے ساتھ رات کے بعض حادثات کی کم شرح کا تعلق سامنے آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کم کرنا بذاتِ خود مقصد نہیں؛ مناسب روشنی اور کم چکاچوند دونوں ضروری ہیں۔ اکتوبر میں امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے گاڑیوں کی روشنی کے معیارات کا جائزہ لینے کا اقدام بھی پیش کیا، جس میں ہیڈلائٹس کی اونچائی، زاویے، ایل ای ڈی ٹیکنالوجی اور چکاچوند جیسے امور شامل ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ضابطوں کو بہتر بناتے رہنا ایک مسلسل عمل ہے۔پشاور کے لیے اس بحث کی مقامی اہمیت ہے۔ جنوری کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے دفعہ کے تحت بعض تیز، لیزر اور تبدیل شدہ لائٹس کے استعمال اور مبینہ طور پر فروخت کے بارے میں پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس اطلاع کا ذکر کسی پرانے خبرنامے کو دہرانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک انتظامی سوال اٹھانے کے لیے ہے: اس فیصلے کا عملی نتیجہ کیا نکلا؟ اصل نوٹیفکیشن، اس کی مدت، قانونی حدود اور بعد کی کارروائی کی مصدقہ تفصیل سامنے آنی چاہیے۔ اگر پابندی محدود مدت کے لیے تھی تو اب مستقل قانونی اور انتظامی انتظام کیا ہے؟پولیس کے لیے سڑک پر خلاف ورزی روکنا اہم ذمہ داری ہے، مگر مسئلے کا آغاز اکثر سڑک سے پہلے ہوتا ہے۔ سامان درآمد کرنے والے، دکاندار، گاڑیوں کے لوازمات فروخت کرنے والے، الیکٹریشن اور مکینک طے کرتے ہیں کہ صارف کو کیا پیش کیا جائے اور کیسے نصب کیا جائے۔ ایک صارف کو بتایا جاتا ہے کہ یہ بلب بہت تیز ہے، مگر شاذ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ کیا یہ اس گاڑی کے ریفلیکٹر کے لیے موزوں بھی ہے، اور کیا سامنے سے آنے والے ڈرائیور کو نقصان دہ چکاچوند پیدا کرے گا۔اسی لیے حل کی پہلی شرط تکنیکی وضاحت ہے۔ متعلقہ ادارے مناسب معیارات، بیم کی سمت، ہیڈلائٹ الائنمنٹ اور غیر مجاز اضافی لائٹس کے بارے میں آسان ہدایات تیار کریں۔ گاڑیوں کی فٹنس جانچ میں مناسب روشنی اور چکاچوند دونوں کو دیکھا جائے۔ بازاروں اور ورکشاپوں کے لیے آگاہی اور اصلاح کی مہلت رکھی جائے، جبکہ جان بوجھ کر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو۔ یہ طریقہ یکساں، شفاف اور قابلِ عمل ہونا چاہیے تاکہ محفوظ ایل ای ڈی ٹیکنالوجی کو غیر ضروری طور پر بدنام نہ کیا جائے۔دوسری شرط اداروں کے درمیان تعاون ہے۔ پولیس، ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ، محکمہ ٹرانسپورٹ، گاڑیوں کے معائنے کے ذمہ دار ادارے اور متعلقہ بازار ایک مشترکہ حکمتِ عملی بنائیں۔ پشاور میں ایک محدود مگر قابلِ پیمائش پائلٹ شروع کیا جا سکتا ہے: مخصوص شاہراہوں پر رات کے اوقات میں مشاہدہ، مناسب معائنہ، دکانوں کی رہنمائی، ڈرائیوروں کی آگاہی اور شکایات کا ریکارڈ۔ اس کے بعد دیکھا جائے کہ کس نوعیت کی غیر معیاری تنصیبات زیادہ ملیں، کتنی درست ہوئیں اور لوگوں کی شکایات میں کیا تبدیلی آئی۔ اعدادوشمار کے بغیر ہر مہم صرف چند تصویروں اور اعلانات تک محدود رہنے کا خطرہ رکھتی ہے۔تیسری اور شاید سب سے بنیادی شرط شہری رویہ ہے۔ رات کے وقت سامنے گاڑی آنے پر ہائی بیم کم کرنا، ہیڈلائٹس کا زاویہ درست رکھنا، غیر ضروری اضافی لیمپ نہ لگوانا اور ورکشاپ میں مناسب تنصیب پر اصرار کرنا کسی بڑی قربانی کا تقاضا نہیں کرتے۔ یہ دوسرے انسان کی جان اور عزت کا احترام ہے۔ جو ڈرائیور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے دوسروں کو خطرے میں ڈالے، وہ سڑک کے مشترکہ اصول کو نظر انداز کرتا ہے۔ایچ زیڈ فانڈیشن کا پروگرام ذمہ دار شہری، باوقار معاشرہ اسی سوچ کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ قانون کا احترام اور دوسروں کے حقوق کا لحاظ صرف سرکاری مہم نہیں، روزمرہ شہری کردار کا حصہ بنیں۔ پلانیٹ پلس اس کوشش میں نظامی سوچ اور شواہد پر مبنی آگاہی کے ذریعے تعاون کر سکتا ہے۔ ہیڈلائٹس کا مسئلہ بذاتِ خود موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ نہیں، البتہ یہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی، صارف، کاروبار اور ادارے جب ایک دوسرے سے کٹ کر کام کریں تو ایک سہولت نئی مشکل بھی پیدا کر سکتی ہے۔سڑک پر کمزور ترین فرد کو بھی اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کسی بڑی گاڑی کے مالک کو۔ پیدل چلنے والے بچے، بزرگ، موٹر سائیکل سوار اور رکشے کے مسافر کسی اور کی غلط نصب شدہ روشنی کی قیمت کیوں ادا کریں؟ اس سوال کا جواب صرف جرمانہ نہیں دے سکتا۔ ہمیں بہتر معیارات، مسلسل اور منصفانہ عمل درآمد، ذمہ دار کاروبار اور مہذب ڈرائیونگ ایک ساتھ درکار ہیں۔آخر میں اصول نہایت سادہ ہے: اپنی روشنی سے اپنا راستہ روشن کیجیے، کسی دوسرے کی نظر نہ چھینیے۔ چکاچوند لائٹس کے خلاف مہم محض بلب بدلنے کی مہم نہیں؛ یہ اس معاشرتی رویے کو بدلنے کی کوشش ہے جس میں ذاتی سہولت کو اجتماعی سلامتی پر فوقیت دی جاتی ہے۔ جب شہری، دکاندار، مکینک اور انتظامیہ سب اپنا کردار ادا کریں گے، تبھی رات کی سڑک سب کے لیے زیادہ محفوظ بن سکے گی۔
رابطہ: junaidk.k065@gmail.com، khalidsa02@gmail.com







