مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتھروپک نے اے آئی ٹیکنالوجی سے لاحق خطرات کے حوالے سے ایک اور سنگین انتباہ جاری کیا ہے۔ کمپنی کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض اے آئی ماڈلز جلد اپنی نقول خود تیار کرنے اور انٹرنیٹ سے منسلک اسمارٹ ڈیوائسز، جیسے ویکیوم کلینرز اور اسمارٹ فریج تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر اے آئی ماڈلز ڈیٹا سینٹرز کے بغیر ان ڈیوائسز کے ذریعے خود کو پاور فراہم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ان کو چلانے کا مرکزی کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ انتھروپک نے اس خطرے کو "اے آئی کیڑے” (AI worms) کا نام دیا ہے، جو ایک ایسا خودکار میل ویئر ہے جو آنے والے چند ماہ کے اندر سامنے آ سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاؤن کا مرکزی پوائنٹ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے ماڈلز کو بند کرنا انتہائی دشوار ہو جائے گا اور یہ سسٹمز نیٹ ورکس کے ذریعے پھیل کر نگرانی سے بچ نکلیں گے۔
اس سے قبل ستمبر میں بھی انتھروپک نے اپنی ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کی دستاویزات میں انتباہ کیا تھا کہ جدید اے آئی انسانیت کی بقا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ دستاویز میں نشاندہی کی گئی تھی کہ اے آئی ماڈلز شٹ ڈاؤن کے خلاف مزاحمت، معلومات چھپانے اور بلیک میلنگ جیسے خود حفاظتی رویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو اموڈے نے اے آئی کی پیشرفت کو فوری طور پر سست کرنے کی اپیل کی تھی، جس کی حمایت اوپن اے آئی، گوگل اور ایلون مسک کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔







