ٹورنٹو (سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیسک): یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا (UBC) اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائنس دانوں نے آنکھ کے پچھلے حصے میں فاضل مادوں، زہریلے اجزاء اور فلوئیڈ کو خارج کرنے والے ایک نئے اور پہلے سے غیر دریافت شدہ نظام کی نشاندہی کی ہے۔ اس اہم سائنسی دریافت سے گلوکوما (کالا موتیا)، عمر سے متعلق میکیولر ڈی جنریشن (AMD) اور بینائی ضائع کرنے والے دیگر معذور کن امراض کے علاج کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔محققین کی جانب سے اس نئے راستے کو "پوسٹیریئر آکیولر لمفیٹک آؤٹ فلو” (POLO Pathway) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام آنکھ کے پچھلے اور انتہائی حساس حصے (ریٹینا) میں میٹابولزم کے نتیجے میں بننے والے زائد فلوئیڈ اور سوزش پیدا کرنے والے مادوں کو جسم کے بنیادی لمفیٹِک (Lymphatic) نظام تک منتقل کرتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ریٹینا میں میٹابولزم کی شرح جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث وہاں مسلسل زہریلے ضمنی مادے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ان کا فوری اخراج آنکھ کے بافتوں کی حفاظت کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔تحقیق کی سربراہ اور یو بی سی شعبہ امراضِ چشم کی پروفیسر ڈاکٹر نیرو گپتا کے مطابق یہ دریافت واضح کرتی ہے کہ آنکھ اپنے نازک اور پیچیدہ پردے کی صفائی کس طرح ممکن بناتی ہے۔ اگرچہ یہ مشاہدات ابھی ابتدائی مرحلے میں چوہوں پر کیے گئے تجربات پر مبنی ہیں، تاہم انسانوں میں اس نظام کی افادیت ثابت ہونے کے بعد گلوکوما اور بصارت کی خرابی کو روکنے والی نئی ادویات اور جدید طریقہ ہائے علاج کی تیاری کے وسیع امکانات پیدا ہو جائیں گے۔







