پاک افغان سرحد بند، تعلقات منجمد،ایک سال بعد حاصل کیا ہوا؟


رپورٹ: ضیاء الحق سرحدی پشاور(ستارہ امتیاز)

اکتوبر 2025ء میں پاک افغان سرحد مکمل طور پر بند ہوئی۔ ایک سال گزر چکا ہے۔ سرحد اب بھی تجارت اور عام آمدورفت کے لیے بند ہے، تعلقات تقریباً منجمد ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک سالہ بندش سے کیا حاصل ہوا؟
پاکستان کا بنیادی مقصد ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کے خلاف دباؤ ڈالنا تھا۔ بندش کے فوراً بعد نومبر اور دسمبر 2025ء میں کراس بارڈر حملوں میں کمی آئی۔ ایک تھنک ٹینک (CRSS) کی رپورٹ کے مطابق نومبر میں تقریباً 9 فیصد اور دسمبر میں 17 فیصد تک حملوں میں کمی دیکھی گئی۔ سیکیورٹی فورسز کو کچھ ریلیف ملا۔
تاہم یہ کمی پائیدار ثابت نہیں ہوئی۔ 2026ء کے دوران تشدد پھر بڑھ گیا۔ تیسری سہ ماہی میں تشدد سے متعلق ہلاکتوں میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خاص طور پر بلوچستان میں۔ ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی سرگرم ہیں۔ پاکستان نے متعدد فضائی حملے کیے، مگر افغانستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قابل تصدیق اور ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی۔ تعلقات مزید خراب ہوئے اور دونوں طرف سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
پاک افغان سرحد کی بندش کو تقریباً ایک سال مکمل ہونے کو ہے، لیکن اس دوران نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، ٹرانسپورٹ، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں، بارڈر مارکیٹوں اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار بھی شدید متاثر ہوا۔
اکتوبر 2025ء میں سکیورٹی صورتحال کے باعث طورخم سمیت دیگر اہم سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں معطل ہوئیں۔ 24 اکتوبر 2025ء کو پاکستانی حکومت نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاک افغان سرحدی کسٹمز اسٹیشنز پر دوطرفہ تجارت عارضی طور پر معطل ہے، جبکہ طورخم اور چمن پر سینکڑوں گاڑیاں اور تقریباً 495 ٹرانزٹ گاڑیاں سرحد پار کرنے کی منتظر تھیں۔
اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2022-23ء میں پاکستان کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت 102,886 کنٹینرز کی نقل و حرکت ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 6.7 ارب ڈالر تھی لیکن مالی سال 2025-26ء میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 11,592 کنٹینرز رہ گئی، جن کی مالیت تقریباً 367 ملین ڈالر تھی یعنی مالی سال 2022-23ء کے مقابلے میں کنٹینر ٹریفک میں تقریباً 89 فیصد کمی واقع ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کمی کا رجحان سرحد بند ہونے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ مالی سال 2024ء میں ٹرانزٹ کنٹینرز کی تعداد 54,114 جبکہ مالی سال 2025ء میں 42,959 رہ گئی تھی، اس طرح 2025-26ء میں 11,592 کنٹینرز کا حجم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بھی تقریباً 73 فیصد کم رہا۔
اکتوبر 2025ء میں ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں معطل ہونے کے وقت پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت روزانہ ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی نقل و حرکت معمول کا حصہ تھی، جو اچانک رک گئی۔ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں کنٹینرز پھنس گئے، جبکہ خراب ہونے والی اشیاء کے حوالے سے بھی تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
فروری 2026ء کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف طورخم کے راستے ماضی میں روزانہ تقریباً 500 سے 700 کارگو اور مسافر گاڑیاں گزرتی تھیں، جبکہ طویل بندش نے کراس بارڈر تجارت کو مفلوج کر دیا اور سینکڑوں ٹرک پھنس گئے۔
تاجروں اور کاروباری تنظیموں کے مختلف تخمینوں میں نقصانات کی مختلف مالیت سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2026ء میں خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یوسف آفریدی نے دعویٰ کیا کہ پاک افغان سرحدوں کی بندش سے مجموعی طور پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جس میں 1.644 ارب ڈالر برآمدات اور 817 ملین ڈالر درآمدات کا نقصان شامل ہے۔
اس سے قبل پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے عہدیداروں نے بھی ٹرانزٹ سرگرمیوں میں کمی سے پاکستان کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ پیش کیا تھا۔ جون 2026ء میں ایک اندازے کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے دوران پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم نقصانات کے یہ اعدادوشمار مختلف طریقہ کار اور مختلف ادوار کی بنیاد پر دیے گئے ہیں، اس لیے انہیں سرکاری طور پر تصدیق شدہ ایک ہی حتمی رقم نہیں سمجھا جا سکتا۔
تقریباً 10 ہزار کنٹینرز پھنسے رہے۔ پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق اکتوبر 2025ء سے اپریل 2026ء کے دوران تقریباً 10 ہزار ٹرانزٹ کنٹینرز پاکستان میں پھنسے رہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان درآمد کنندگان کو فی کنٹینر اوسطاً تقریباً 120 ڈالر یومیہ جرمانہ، ڈیمریج اور ڈیٹینشن کی مد میں ادا کرنا پڑا، جس سے اضافی مالی بوجھ میں بھی اضافہ ہوا۔
پاک افغان سرحد کی طویل بندش نے افغانستان کو اپنے تجارتی راستے تبدیل کرنے پر بھی مجبور کیا۔ افغانستان نے ایران کی چابہار بندرگاہ سمیت وسطی ایشیا کے راستوں سے تجارت بڑھائی۔ رائٹرز کے مطابق 2025ء میں افغانستان کی مجموعی تجارت تقریباً 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں کے استعمال میں اضافہ ہوا۔
ورلڈ بینک کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق ایران 2025ء مالی سال میں افغانستان کی درآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا اور ایران سے براہ راست یا ٹرانزٹ راستوں کے ذریعے افغانستان کی درآمدات کا بڑا حصہ آنے لگا.
پاکستان کے لیے مسئلہ صرف افغان تجارت تک محدود نہیں رہا، افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک پاکستانی مصنوعات پہنچانے کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔ اس راستے سے پاکستان کو ٹرانسپورٹ اور متعلقہ خدمات کی مد میں سالانہ کروڑوں ڈالر حاصل ہوتے تھے، جبکہ طویل بندش کے باعث یہ آمدنی بھی متاثر ہوئی۔
اسی طرح ٹرک ڈرائیور، کنڈیکٹر، لوڈر، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں کے ملازمین، کسٹمز سے منسلک کاروبار اور بارڈر مارکیٹوں کے چھوٹے تاجر بھی اس بحران سے متاثر ہوئے۔
پاکستانی راستے سے آنے والی نسبتاً مختصر اور کم لاگت والی سپلائی کے بجائے افغانستان کو متبادل راستوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔ طویل فاصلے اور زیادہ لاجسٹک اخراجات کے باعث بعض اشیاء کی قیمتیں اور کاروباری لاگت بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
افغانستان سے پاکستان اور دیگر ممالک کو جانے والی برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جبکہ پاکستان کے راستے افغان مصنوعات کی ریورس ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی غیر معمولی کمی آئی۔ مالی سال 2025ء میں ریورس ٹرانزٹ کی مالیت تقریباً 454 ملین ڈالر تھی جو مالی سال 2026ء میں گھٹ کر صرف 7 ملین ڈالر رہ گئی۔
تقریباً ایک سال کی اس بندش نے پاک افغان تجارت کے روایتی راستے کو تبدیل کر دیا ہے۔ 102,886 کنٹینرز سے 11,592 کنٹینرز تک آنے والی ٹرانزٹ ٹریفک، اربوں ڈالر کے تجارتی نقصانات، ہزاروں پھنسے ہوئے کنٹینرز اور متبادل تجارتی راستوں کی طرف افغانستان کی منتقلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرحدی بندش کا اثر صرف بارڈر پر موجود ٹرکوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کے اثرات کراچی کی بندرگاہوں سے لے کر پشاور، خیبر، چمن، افغانستان اور وسطی ایشیا تک پورے تجارتی و ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر پڑے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت دوبارہ سابقہ سطح پر آ سکے گی، یا ایک سال کی بندش کے دوران پیدا ہونے والے متبادل تجارتی راستے مستقل طور پر پاکستان کے روایتی ٹرانزٹ کردار کو کم کر دیں گے؟
پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دونوں جانب کے عہدیداروں نے "وی نیوز” سے بات چیت کے دوران بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تجارت اور ٹرانزٹ میں تعطل سے تاجروں، صنعتکاروں، کسانوں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور دیگر شعبوں کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سرحدیں دوبارہ کھول دینا کافی نہیں، کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔ پاک افغان ٹرانزٹ معاہدے کا ازسرنو جائزہ لے کر ایسا قانونی طور پر پابند فریم ورک بنایا جائے جس میں سیاسی اختلافات کی صورت میں تجارت اور ٹرانزٹ معطل نہ کرنے کی ضمانت شامل ہو اور اس میں دونوں جانب کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed