ضلع خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کے دوران کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں ریسکیو 1122 کے دفتر اور نادرا دفتر میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق باڑہ بازار میں احتجاج کے دوران ریسکیو 1122 کے دفتر کو آگ لگا دی گئی، جبکہ نادرا دفتر میں بھی آتشزدگی کی اطلاع ہے۔واقعے کے بعد ریسکیو 1122 کے دفتر میں آگ لگنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جبکہ باڑہ بازار میں احتجاج کے دوران کشیدگی سے متعلق ویڈیوز اور اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔احتجاج ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف کیا جا رہا تھا تاہم، احتجاج کے دوران آتشزدگی کے واقعات کی وجوہات، ذمہ دار افراد اور سرکاری دفاتر کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔واقعے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع بھی فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں ہے۔خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف باڑہ میں احتجاج کیا گیا، اس دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئے اور صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ایم پی اے عبدالغنی آفریدی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کر رہے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے شیلنگ اور فائرنگ کی۔ باڑہ میں مظاہرین ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کی مخالفت میں احتجاج کے دوران پولیس کارروائی اور شیلنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ علاقے میں کشیدگی پیدا ہونے کی بھی اطلاع ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس کارروائی کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے، ایم پی اے عبدالغنی آفریدی نے مظاہرے کی قیادت کی، تاہم شیلنگ اور فائرنگ کے نتیجے میں کسی جانی نقصان، زخمیوں یا گرفتاریوں کی کوئی اطلاع نہیں







