پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت کے اندرونی اختلافات شدت کے ساتھ سطح پر آ گئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ کے ترجمان فراز مغل نے اس آڈیو کے بالکل اصلی اور درست ہونے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
لیک ہونے والے آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا، ”میڈ اِن چائنا ٹیپو سلطان صاحب! اپنی زبان کو لگام دو اور ایسی فضول باتیں بند کرو، ورنہ میں بے نقاب کر دوں گا کہ تم کیسے آئے، کس شرط پر آئے اور تمہیں کون لایا۔“ گنڈاپور نے الزام عائد کیا کہ ۲۶ نومبر ۲۰۲۵ء کو سہیل آفریدی نے طے شدہ انتظامی معاملات اور ’ڈیل‘ کے تحت احتجاجی کارروائی سے گریز کیا۔
سابق وزیراعلیٰ نے مزید سنسنی خیز الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بانیٔ تحریکِ انصاف اور بشریٰ بی بی سے ان کی بیٹی کی ملاقاتیں بھی سہیل آفریدی نے ہی پسِ پردہ بند کروائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے سہیل آفریدی کے لانے والوں کو سخت پیغامات بھیجے جا چکے ہیں۔ گنڈاپور نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اس مبینہ ڈیل کا تمام ریکارڈ منظر عام پر لا کر بات کی تو وزیراعلیٰ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔







