صوبائی دارالحکومت پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری ہے، اس دوران او پی ڈیز کا بائیکاٹ بھی کر دیا گیا ہے، جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے خیبرپختونخوا کے ینگ ڈاکٹرز نے مختلف ہسپتالوں میں احتجاج شروع کردیا، جبکہ او پی ڈیز سے بائیکاٹ کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں بھی ینگ ڈاکٹرز کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کررہی ہے۔احتجاج کے دوران ینگ ڈاکٹرز نے ہسپتالوں کی او پی ڈیز سے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث علاج معالجے کے لیے ہسپتال آنے والے مریضوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کو صوبے کے ڈاکٹرز کے مطالبات پر فوری عمل درآمد کرنا چاہیے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔ینگ ڈاکٹرز کے اہم مطالبات میں تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ بھی شامل ہے، احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ڈاکٹرز نے مقف اختیار کیا کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالے۔احتجاجی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت خود لانگ مارچ میں شریک ہے، تو پھر ڈاکٹرز کے جائز مطالبات تسلیم کیوں نہیں کیے جارہے۔ینگ ڈاکٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کے ڈاکٹرز کے مطالبات پر عمل درآمد کیا جائے اور احتجاج ختم کرنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ینگ ڈاکٹرز نے واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔دوسری جانب ڈاکٹرز کے او پی ڈیز سے بائیکاٹ کے باعث ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ احتجاج کے باعث معمول کی طبی سہولیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔







