بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے 7ہزار 20ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے رواں مالی سال 7 ہزار 20 ارب روپے قرض لینے کا منصوبہ بنا یا ہے ،وزارتِ خزانہ نے 2026 سے 2028 تک کی تین سالہ قرض حکمتِ عملی بھی جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت مقامی ذرائع سے 6 ہزار 46 ارب اور بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے حاصل کئے جائیں گے، حکومت نے 2026 سے 2028 تک کی تین سالہ قرض حکمتِ عملی بھی فائنل کرلی۔وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہونیکا تخمینہ ہے، مقامی قرضوں میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز سے 4 ہزار 580 ارب روپے،جبکہ سکوک اوردیگر اسلامی مالیاتی ذرائع سے 3 ہزار 785 ارب روپے خالص قرض لینے کا منصوبہ ہے۔حکومت کے مجموعی بیرونی قرضے 13 ارب 37 کروڑ 80 لاکھ ڈالررہنے کاتخمینہ ہے،جبکہ 10 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ ڈالرکی ادائیگی متوقع ہے،بیرونی ذرائع سے خالص 2 ارب 80 کروڑ 40 لاکھ ڈالرحاصل ہونے کا اندازہ ہے،رواں مالی سال 2 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کرنے کا ہدف مقررکیاگیاہے،جبکہ 3 ارب ڈالرکا یورو بانڈ پہلے ہی جاری کیاجاچکا ہے۔وزارتِ خزانہ کی تین سالہ حکمتِ عملی کے تحت طویل المدتی فکسڈ ریٹ اورزیرو کوپن بانڈز کے اجرا کو ترجیح دی جائیگی،جبکہ قلیل المدتی اور فلوٹنگ ریٹ والے قرضے محدود رکھے جائیں گے۔حکومت آسان شرائط پرطویل المدتی قرضوں،شرعی اصولوں کے مطابق بانڈز اور بینکوں کے علاوہ دیگر سرمایہ کاروں کی شمولیت کوترجیح دے گی، وزارتِ خزانہ کے مطابق قرض حکمتِ عملی پرعمل درآمد عالمی معاشی حالات،جغرافیائی سیاسی صورتحال اور مالیاتی نظم و ضبط سے مشروط ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed