سکندر ٹاؤن کے رہائشی علاقے میں بڑھتی ہوئی کمرشل سرگرمیوں کے باعث مکینوں کو مختلف مسائل اور سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے، جبکہ گزشتہ روز منشیات بحالی ہسپتال میں جھگڑے کے دوران فائرنگ اور چاقوؤں کے وار کے واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کردی۔علاقہ مکینوں کے مطابق سکندر ٹاؤن بنیادی طور پر رہائشی علاقہ ہے تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں اخبارات کے دفاتر، ڈسٹریبیوشن دفاتر، کمرشل پلازے اور دیگر کاروباری مراکز قائم ہونے کے باعث تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ کمرشل سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ علاقے میں آمدورفت بھی بڑھ گئی ہے، جس کے باعث رہائشیوں کو ٹریفک، پارکنگ، شور اور سکیورٹی سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق رہائشی علاقے میں قائم بعض کاروباری مراکز کی سرگرمیوں کی مناسب نگرانی نہ ہونے سے بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔گزشتہ روز منشیات بحالی ہسپتال میں جھگڑے کے دوران فائرنگ اور چاقوؤں کے وار کے واقعے نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ رہائشی آبادی میں اس نوعیت کے واقعات کسی بھی وقت بڑے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کریں، منشیات بحالی مراکز سمیت دیگر کمرشل اداروں کی قانونی حیثیت، سکیورٹی انتظامات اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے اور رہائشی علاقے میں قائم کاروباری مراکز کے حوالے سے ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں آنے اور جانے والے افراد کی نگرانی، سکیورٹی انتظامات کی بہتری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔علاقہ مکینوں نے انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ سکندر ٹاؤن میں گشت بڑھایا جائے، مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔مکینوں کے مطابق سکندر ٹاؤن میں رہائشی اور تجارتی سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر بڑھتی ہوئی کمرشل سرگرمیاں مستقبل میں رہائشیوں کے لیے مزید مشکلات اور سکیورٹی مسائل پیدا کرسکتی ہی







