ہڑتال سے تقریباً 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں’ چیف جسٹس

پشاور ہائیکورٹ میں مردان سے لاپتہ ہونے والے وکیل امیر اعجاز خان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن امین الرحمن یوسفزئی، یاسر خٹک ایڈووکیٹ اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نیاز محمد عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ امیر اعجاز خان کو جمعرات کے روز صوابی سے واپسی پر مردان سے اٹھایا گیا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آر پی او اور ڈی پی او مردان کو طلب کرکے وکیل کی بازیابی سے متعلق رپورٹ طلب کی جائے۔چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ وکیل جمعرات سے لاپتہ ہے اور درخواست آج دائر کی گئی، درخواست جمعہ کے روز دائر کی جانی چاہیے تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور سمیت دیگر شہروں سے لوگ آتے ہیں، درخواستیں دائر کرتے ہیں اور عدالت اسی روز کیس سماعت کے لیے مقرر کرتی ہے۔عدالت نے وکلا کی ہڑتال سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کے باعث سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک روز کی ہڑتال سے تقریبا 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے فریقین سے سات روز میں جواب طلب کرلیا۔ وکیل درخواست گزار یاسر خٹک ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ آر پی او اور ڈی پی او مردان کو آج ہی طلب کرکے رپورٹ حاصل کی جائے، جس پر عدالت نے درخواست پر حکم جاری کرنے کا کہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed