پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی ارباب شیر علی نے دعوی کیا ہے کہ صوبائی وزیر شکیل خان کے قافلے کا مبینہ طور پر نامعلوم گاڑیوں نے تعاقب کیا، جبکہ درخواست کے باوجود واقعے کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں کی گئی . پشاور میں منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارباب شیر علی نے کہا کہ ممبر صوبائی اسمبلی شکیل خان کے مطابق نامعلوم گاڑیوں نے ان کا تعاقب کیا تھا، تاہم اس معاملے میں اب تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا، جبکہ ان کے بقول اسی نوعیت کے ایک دوسرے واقعے میں زخمی افراد کی ایف آئی آر مبینہ طور پر آدھے گھنٹے کے اندر درج کرلی گئی۔ ارباب شیر علی نے مزید دعوی کیا کہ صوبائی وزیر فتح خان کو ٹول پلازہ کے قریب مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انہیں کس ادارے نے حراست میں لیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی ضلعی کمیٹی کے سیکرٹری راضو اور انصاف لائرز فورم پشاور کے جنرل سیکرٹری کو بھی مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے حراست میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات بظاہر کسی منصوبہ بندی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، جس سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزرا کے تحفظ کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور حکومت کو اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لیے مثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ ارباب شیر علی نے تمام واقعات کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے کارکنوں کے مطالبات سنے جائیں اور مذاکرات کا راستہ بھی کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا آئینی اور قانونی حق ہے، تاہم پی ٹی آئی کا مقصد سڑکیں بند کرنا، توڑ پھوڑ کرنا یا عام شہریوں کو نقصان پہنچانا نہیں۔ ان کے بقول راستے کھلے ہوئے تو کارکن پرامن احتجاج کریں گے اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنی استطاعت کے مطابق سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ارباب شیر علی نے کہا کہ کارکنوں کو مکمل طور پر پرامن رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس بار احتجاج کا طریقہ کار مختلف ہوگا۔ ان کے مطابق احتجاج میں سیاسی کارکن آگے ہوں گے جبکہ سکیورٹی اہلکار پیچھے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ سڑکوں کی بندش سے صوبے کی معیشت اور عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق تورخم بارڈر سمیت دیگر راستوں کی بندش پہلے ہی مشکلات پیدا کر رہی ہے اور اشیائے خورونوش کی ترسیل متاثر ہونے سے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ارباب شیر علی نے کہا کہ وہ کسی این آر او یا خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنماں کے مقدمات کے فیصلے میرٹ پر چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کرنا اور سیاسی وابستگی نہ رکھنے والی خواتین کو بھی حراست میں لینا حالات بہتر کرنے کا طریقہ نہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ متعدد سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جن کی رہائی کے لیے قانونی جدوجہد کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث افراد کے نام ان کے پاس موجود ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی







