اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں وہ آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف وزری آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو شاہراہیں اور راستے بند کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں، صوبائی حکومتیں اسلام آباد مارچ کیلیے سرکاری وسائل اور فنڈز کا استعمال نہ کریں، سرکاری گاڑیوں اور مشینری کو لانگ مارچ کی سہولت کیلییاستعمال کرنے پرمکمل پابندی ہے۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ غیر قانونی احکامات کی صورت میں سرکاری ملازمین کے لیے فوری ہیلپ لائن قائم کی جائے، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور شہریوں کیحقوق متاثر کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔عدالت نے کہا کہ عوامی عہدہ رکھنے والا اگر آئین و قانون کی خلاف ورزی کرے تو وہ اپنے حلف سے انحراف کا مرتکب ہوگا، سرکاری عہدیدارکی وجہ سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تو اسے حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، آئین اور قانون کی خلاف ورزی پر ذمہ دار سرکاری افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔







