خیبرپختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، 35 ہزار ٹیمیں تشکیل

خیبرپختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے، اس دوران صوبے میں پانچ سال سے کم عمر 73لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے کیا۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم 21 سے 24 ستمبر تک جاری رہے گی، جبکہ پشاور اور خیبر میں مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری رکھی جائے گی۔مہم کے دوران پولیو ٹیمیں گھر گھر پہنچ کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائیں گی تاکہ کوئی بچہ حفاظتی ویکسین سے محروم نہ رہے۔مہم کے لیے صوبہ بھر میں تقریبا 35 ہزار پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ تقریبا 75 ہزار اہلکار مختلف ذمہ داریاں انجام دیں گے۔پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے تقریبا 50 ہزار سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے تاکہ ویکسینیشن ٹیمیں محفوظ ماحول میں بچوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔قومی سطح پر 21 سے 27 ستمبر کی مہم کے دوران 115 مخصوص اضلاع میں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر شراکت دار مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے والدین پر زور دیا کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچا کے قطرے ضرور پلائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔ خلیق الرحمن کے مطابق حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مربوط اور مثر بنایا جا رہا ہے تاکہ بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔خیبر پختونخوا میں 2026 کے دوران اب تک 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، تازہ ترین کیس ضلع بنوں سے رپورٹ ہوا، جس کے بعد پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 4 ہوگئی، جن میں 3 خیبر پختونخوا اور ایک سندھ سے ہے۔پولیو پروگرام کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں میں سکیورٹی سے متعلق رسائی کے مسائل کے باعث بعض بچے ویکسین سے محروم رہتے ہیں، جس سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، عوام، صحت کے اداروں اور تمام متعلقہ محکموں کا تعاون انتہائی ضروری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed