ملک میں ادوایات کی خریداری میں 4 ارب 22 کروڑ 78 لاکھ کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو ا ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 23-2022میں محکمہ پرائمری ہیلتھ کی آئی وی کینولا کی زائد نرخوں پر خریداری سے خزانے کو 5 کروڑ 63 لاکھ 90 ہزار کانقصان پہنچایا گیا ہے۔ پی اے سی ون نے خریداری کے معاملے کی محکمانہ سطح پر تحقیقات کی سفارش کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈی جی ہیلتھ نے آئی وی کینولا 57 سے 79 روپے فی عدد کے حساب سے خریدے جبکہ ہیلتھ اتھارٹیز نے یہی آئی وی کینولا 44 روپے سے 50 روپے 50 پیسے فی عدد میں خریدے ہیں۔ ر پورٹ میں انکشاف ہوا کہ ڈی جی ہیلتھ سروسز نے30 لاکھ آئی وی کینولا غیر معمولی بلند نرخوں پر خریدے ہیں۔ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کو پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 اور مقررہ بولی کے معیار کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ پبلک اکانٹس کمیٹی ون کی جانب سے آرڈر جاری کیا گیا ہے کہ آئی وی کینولا کی زائد نرخوں پر خریداری کی مکمل چھان بین کی جائے۔ خریداری کے عمل، فرموں کی پیشگی اہلیت ،مسابقتی بولی کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات ظاہر کیے گئے ہیں۔ تحقیقات میں پی اے سی ون نے مبینہ طور پر پوچھ گچھ کرتے ہو ئے پو چھا کہ ایک ہی نوعیت کے آئی وی کینولا مختلف محکموں نے مختلف نرخوں پر کیوں خریدے؟؟ پی اے سی ون کی ذمہ دار تعین کرنے کیلئے معاملہ محکمانہ تحقیقات کے سپرد کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے۔







