پشاور ہائیکورٹ نے مردان سے تعلق رکھنے والی سات سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والے ملزم اختر حسین کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی تین بار سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ریپ اور قتل جیسے انتہائی سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے اور معمولی تکنیکی خامیوں کو بنیاد بنا کر ایسے عناصر کو بری نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ 34 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے آبزرویشن دی کہ جب کوئی شخص کمسن بچی کے ساتھ اس قسم کا درندانہ فعل کرتا ہے تو وہ انسانیت کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عدالتیں اور قانون ایسے مجرموں کے ساتھ نرمی برتیں گے تو معاشرہ بے چینی اور مزید اخلاقی تنزلی کا شکار ہوگا۔کیس کے حقائق کے مطابق ملزم نے 2020 میں سات سالہ بچی کو درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔ فاضل جج نے فیصلے میں قرآن پاک کی آیات اور معاشرتی اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ قانون مظلوم کے لیے طاقتور ہتھیار ہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے ایسے وحشی عناصر کو سخت ترین سزائیں دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عدالت نے ملزم کے اعترافِ جرم اور شواہد کی روشنی میں ماتحت عدالت کا فیصلہ بالکل درست قرار دیتے ہوئے سزا کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی۔







