پشاور کی احتساب عدالت نے ادویات اسکینڈل میں گرفتار سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شوکت کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔احتساب جج محمد حامد مغل نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مقف اختیار کیا کہ ملزم مختلف بیماریوں کا شکار ہے، اس لیے ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور انہیں ضمانت دی جائے۔ نیب اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کسی ایسے موذی مرض میں مبتلا نہیں جس کا جیل میں علاج ناممکن ہو، اور ان کا علاج پہلے ہی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے جاری ہے۔ پراسیکیوٹر نے مزید عدالت کو بتایا کہ اربوں روپے کے ادویات اسکینڈل میں ملزم کی جانب سے پہلے بھی احتساب اور پشاور ہائیکورٹ سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، جبکہ ملزم نے محکمہ صحت کے دیگر مل کر سرکاری ادویات کے نام پر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے طبی ضمانت کی درخواست اور میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا دونوں مسترد کر دیں۔







