پشاور میں مکانات کا بحران’ کرایوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا’ محمد اکبر سیٹھی

پاکستان ہندکووان تحریک کے صوبائی صدر محمد اکبر سیٹھی نے پشاور میں کرایے کے مکانوں کی شدید قلت اور کرایوں میں مسلسل ہوشربا اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورت حال نے اہل پشاور کی زندگی اجیرن کر دی ہے، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ قبائلی اور جنوبی اضلاع سے نقل مکانی کے باعث پشاور پر آبادی کا بوجھ بڑھ چکا ہے جبکہ افغان شہریوں کی واپسی کے باوجود کرایوں میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث مقامی شہری شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، محمد اکبر سیٹھی نے مزید کہا کہ پشاور میں محض ایک مرلے کے مکان کا ماہانہ کرایہ 20 سے 25 ہزار روپے تک وصول کیا جا رہا ہے، اب 30 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا عام شہری موجودہ مہنگائی میں گھر کا نظام کیسے چلائے؟ قلیل تنخواہدار شخص مکان کا کرایہ دے، یوٹیلیٹی بلز بھرے، راشن ڈالے یا بچوں کی اسکول فیسیں ادا کرے۔؟، انہوں نے کہا کہ اندرون شہر کی صورت حال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ پشاور کے قدیم رہائشی اپنے ہی شہر میں خود کو اجنبی محسوس کر رہے ہیں، کرایوں کا کوئی واضح سرکاری فارمولہ یا نگران نظام نہ ہونے سے شہری پراپرٹی ایجنٹوں اور مالکان کی من مانیوں کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ ڈی سی اور اے سیز کے پاس پشاور میں آ کر نئے آباد ہونے والے افراد کا کوئی منظم ڈیٹا موجود نہیں ہے، پاکستان ہندکووان تحریک کے صوبائی صدر نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پشاور کا جامع سروے کرائے تاکہ مالکان و کرایہ داروں کا قانونی ریکارڈ مرتب ہو، حکومت مرلہ وار مناسب کرایوں کا ریٹ طے کرے اور یہ لسٹیں شہر کے تمام بڑے چوکوں اور پراپرٹی ایجنٹوں کے دفاتر میں نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں تاکہ عوامی حقوق کا تحفظ اور من مانے کرایوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed