ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر رحمت اللہ کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ سامنے آگیا، جہاں عدالتی بیلف نے پولیس لائن کے ایک کمرے سے انہیں بازیاب کرا لیا۔عدالت میں پیش کیے گئے دعوے کے مطابق ڈی ایس پی رحمت اللہ کو مبینہ طور پر پانچ روز تک پولیس لائن میں حراست میں رکھا گیا۔عدالتی بیلف نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں پولیس لائن کے کمرے سے بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا۔ڈی ایس پی رحمت اللہ نے الزام عائد کیا کہ ڈی پی او فرقان بلال نے انہیں بغیر کسی قانونی جواز کے سیل میں رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس الزام کے تحت حراست میں رکھا گیا تھا۔دوسری جانب ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر رحمت اللہ پر عائد کیے گئے مبینہ الزامات تاحال سامنے نہیں لائے گئے۔عدالتی کارروائی کے بعد ڈی ایس پی کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ منظرعام پر آگیا ہے، تاہم واقعے کے حوالے سے پولیس حکام کا موقف سامنے آنا باقی ہے۔







