سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کی سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ اور ملک میں جاری نئے صوبوں کی بحث پر اہم ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں بھی ان کی مقبولیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان چھوٹے صوبوں اور انتظامی اصلاحات کے حامی ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سندھ میں شروع کی جانے والی اسٹریٹ موومنٹ اور اس پر عوامی ردِعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نام ہی کافی ہے! جیل میں جانے کے بعد تین سال سے ان کی ایک تصویر آئی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ بیان آیا، مگر اس سب کے باوجود ان کا جادو ہے کہ سر چڑھ کر بول رہا ہے، عوام میں ان کی اس عزت اور عوامی محبت کے کیا کہنے!۔ملکی انتظامی ساخت اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ کے بیانات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے کیونکہ عمران خان خود چھوٹے صوبوں کے قیام کے حق میں ہیں، اس اہم انتظامی اور آئینی ریفارم یعنی اصلاحات کے لئے متعلقہ حلقوں کو عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیئے۔مولانا فضل الرحمان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت، بالخصوص پختون سیاسی قیادت کو آگے بڑھ کر لیڈرشپ فراہم کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ کوئی شیشہ دکھائے تو منہ لپیٹ کر بھاگ جائیں کیوں کہ گالیاں دینے اور اول فول بکنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی طرف سے پیش کیے جانے والے اصلاحاتی اور ریفرنڈم کے تصورات پر تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ محسن نقوی مسائل کی درست نشاندہی تو کر رہے ہیں، لیکن ان کے حل کا فارمولا بہت غیر واضح اور ادھورا ہے، ابھی تک کوئی بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا وہ نئے صوبوں کی بات کر رہے ہیں، لوکل گورنمنٹ کی وکالت کر رہے ہیں یا ان کے پاس کوئی اور فارمولا ہے، اس لیے اس تمام عمل کو شفاف اور سیاسی اتفاقِ رائے سے طے کیا جانا چاہیے۔







