ایبٹ آباد وکلاء ،ضلعی انتظامیہ تنازعہ، امن فورم نے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیدی

وکلا ء اور ضلعی انتظامیہ کا تنازعہ ،عدالتوں کے بائیکاٹ اور ضلعی محکموں کی ہڑتال سے عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے امن فورم نے مذاکرات کے لئے کمیٹی تشکیل دے کرتصفیہ کی کوشش کا فیصلہ کرلیا ۔اس ضمن میں ہفتہ کے روز امن فورم نے جامعہ مسجد عائشہ صدیقہ (رض ) میں اجلاس اور بعد ازاں ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس میں امن فورم کے حاجی مصطفی خان نے چار روز سے جاری کشمکش اور عوام کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے مشاورت کے بعد اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں آئینی ادارے ہیں جو بات مل بیٹھ کی جاسکتی تھی وہ سڑکوں اور سوشل میڈیا پر ہو رہی ہے ۔اس تنازعہ میں براہ راست عوام متاثر ہوئے ہیں وکلا ضلعی محکموں کے ملازمین ہڑتال پر ہیں۔ محکمہ مال سے فرد انتقالات ،رجسڑیوں کے علاہ نئے سال کے داخلوں میں ڈومیسائل کے حصول میں عوام ،طلبہ کو انتہائی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حاجی مصطفی خان کا کہناتھا ان حالات میں امن فورم اپنے منشور کے مطابق چلتے ہوئے شہر کے امن کو بحال کرنے اور شہریوں کی مشکلات دور کرنے کی پوری کوشش کرے گا ۔انہوں نے امن فورم کے اجلاس میں پیش کی جانے والی سفارشات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ بار ،ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سے مذاکرات کے لئے کمیٹی کی تشکیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دونوں آئینی اداروں سے استدعا ہے اس معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کریں ۔امن کونسل کا وفد ان سے ملاقات کرکے تصفیہ کا راستہ نکالے گا۔اس موقع پر صدر ایبٹ آباد پریس کلب سردار نوید عالم نے بھی میڈیا کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا جب اجلاس اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں خطیب جامع مسجد مولانا سرفراز فاروقی ، انجمن شہریاں کے ملک سجاد ،صدر پریس کلب سردار نوید عالم ،جنرل سیکرٹری راجہ منیر خان ،سابق صدر پریس کلب محمد عامر شہزاد جدون ،حاجی نعیم اعوان صراف ،واپڈا ہائیڈرو یونین کے جمیل اختر تنولی ،صدر آل ٹریڈرز فیڈریشن سردار شاہنواز ،جنرل سیکرٹری سجاد خان ،سابق ممبر تحصیل کونسل سردار شیر دل ،سابق ناظم جھنگی سعید احمد مغل،حویلیاں کے وحید اختر تنولی ،حاجی کالا خان ،حاجی نواز خان ،عثمان خان جدون ،عبدالحمید خان جدون ،حاجی شہزاد گل ،فخر عالم کیانی کے علاوہ دیگر بھی شریک تھے ۔جنہوں نے امن فورم کے کردار کو سراہا اور مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔یاد رہے کہ منگل یکم ستمبر کے روز ڈسٹرکٹ بار کے احاطہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور ہائیکورٹ نے سائلین کو صاف پانی کی سہولیات مہیا کرنے کے پراجیکٹ 20لاکھ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے فلٹریشن پلانٹ کی دیوار اسسٹنٹ کمشنر نے ٹی ایم اے کے ہمراہ مسمار کر دی تھیں جس کے بعد وکلا اور ضلعی انتظامیہ کے افراد آمنے سامنے آئے اور وکلا نے احتجاج عدالتوں کا بائیکاٹ شروع کیا اور محکمہ مال نے قلم چھوڑ ہڑتال شروع کر دی ہے ۔اس حوالے سے امن فورم نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کا ا علان کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed