لندن:رپورٹ،سید عاصم علی قادری
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تخت پر فائز رہنے والے بادشاہ عوامی مقبولیت، سادگی، رواداری اور قومی اتحاد کی علامت بنے رہے ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال کے ساتھ ملک کی جدید تاریخ کے ایک طویل اور اہم شاہی دور کا خاتمہ ہوگیا۔ بادشاہ ہیرالڈ پنجم نے تقریباً35برس تک ناروے کے آئینی بادشاہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور اپنی سادہ طرزِ زندگی، عوام سے قربت، خوش مزاجی، کھیلوں سے محبت، رواداری اور قومی اتحاد کے لیے کردار کے باعث ناروے کے عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ ان کی زندگی دوسری جنگ عظیم کے ہنگامہ خیز دور سے شروع ہوئی،

جلاوطنی کے تجربے سے گزری، فوجی اور اعلی تعلیم حاصل کی، اولمپک مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کی، ایک عام شہری خاندان سے تعلق رکھنے والی سونیا ہیرالڈسن سے محبت کی اور پھر ناروے کے تخت پر بیٹھ کر کئی دہائیوں تک ملک کی قومی زندگی کی نمائندگی کی۔ ہیرالڈ پنجم 21 فروری 1937 کو ناروے کے علاقے اسکاگم، آسکر میں پیدا ہوئے۔ وہ ولی عہد شہزادہ اولاف، جو بعد میں بادشاہ اولاف پنجم بنے، اور شہزادی مارٹھا کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی دو بڑی بہنیں شہزادی رگن ہلڈ اور شہزادی آسٹرڈ تھیں، جبکہ ان کے دادا بادشاہ ہاکون ہفتم ناروے کے تخت پر فائز تھے۔ ہیرالڈ کی پیدائش کو ناروے کی شاہی تاریخ میں خصوصی اہمیت حاصل تھی کیونکہ وہ طویل عرصے بعد ناروے کی سرزمین پر پیدا ہونے والے پہلے شاہی وارث تھے۔ ان کا بچپن تاہم پرسکون ماحول میں نہیں گزرا؛ 1940 میں جب نازی جرمنی نے ناروے پر حملہ کیا تو وہ صرف تین برس کے تھے۔ شاہی خاندان کو ملک چھوڑنا پڑا اور ہیرالڈ اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ پہلے سویڈن اور بعد ازاں امریکا چلے گئے، جہاں انہوں نے جنگ کے دوران کئی سال گزارے۔ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد وہ ناروے واپس آئے اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے اوسلو کے اسمیسٹاڈ اسکول اور اوسلو کیتھیڈرل اسکول سے تعلیم حاصل کی، پھر ناروے کی کیولری آفیسرز ٹریننگ اسکول اور نارویجین ملٹری اکیڈمی سے فوجی تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے بالیول کالج میں تعلیم حاصل کی۔ ہیرالڈ پنجم ایک ذہین طالب علم ہونے کے ساتھ بہترین کھلاڑی بھی تھے اور کشتی رانی یعنی سیلنگ ان کا سب سے پسندیدہ کھیل تھا۔

انہوں نے 1964، 1968 اور 1972 کے اولمپک مقابلوں میں ناروے کی نمائندگی کی ۔ ان کی ذاتی زندگی کا سب سے اہم اور دلچسپ پہلو ملکہ سونیا کے ساتھ ان کی محبت اور شادی تھی۔ سونیا ہیرالڈسن شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھیں بلکہ ایک عام نارویجین خاندان کی بیٹی تھیں۔ ہیرالڈ اور سونیا کی ملاقات 1959 میں ہوئی اور دونوں کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہوگیا، تاہم شاہی خاندان سے باہر شادی اس زمانے میں ایک بڑا فیصلہ تھا۔ تقریبا نو برس تک تعلق قائم رہنے کے بعد بالآخر 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں دونوں کی شادی ہوگئی۔ سونیا 1991 میں ہیرالڈ کے بادشاہ بننے کے بعد ملکہ سونیا بنیں۔ اس شاہی جوڑے کے دو بچے ہوئے، شہزادی مارٹھا لوئس اور شہزادہ ہاکون۔ ہیرالڈ کے والد بادشاہ اولاف پنجم کا 17 جنوری 1991 کو انتقال ہوا تو ہیرالڈ نے ناروے کا تخت سنبھالا اور ہیرالڈ پنجم کے نام سے بادشاہ بن گئے۔ ان کا دورِ بادشاہت ایسے وقت میں شروع ہوا جب دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی اور ناروے بھی ایک جدید، خوشحال اور عالمی سطح پر بااثر فلاحی ریاست کے طور پر آگے بڑھ رہا تھا ۔ انہوں نے ناروے کے مختلف طبقات، علاقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم رکھا اور شاہی ادارے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔

ان کی سب سے نمایاں خصوصیت عوام سے قربت تھی؛ وہ رسمی شاہی شان و شوکت کے بجائے سادگی اور انسانی رویے کے باعث لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ۔ 2016 میں ان کی ایک مشہور تقریر نے بھی انہیں بین الاقوامی سطح پر توجہ دلائی، جب انہوں نے ناروے کو مختلف مذاہب، ثقافتوں، پس منظر اور شناخت رکھنے والے لوگوں کا مشترکہ ملک قرار دیتے ہوئے رواداری اور شمولیت پر زور دیا۔ ہیرالڈ پنجم کے طویل دور میں ناروے نے اقتصادی خوشحالی، جدید فلاحی نظام، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور عالمی سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں ترقی جاری رکھی،۔ بادشاہ کا اصل کردار آئینی تسلسل، قومی اتحاد اور عالمی سطح پر ناروے کی نمائندگی کرنا تھا، اور ہیرالڈ نے یہ ذمہ داری طویل عرصے تک کامیابی سے نبھائی۔ ۔ اپنی بڑھتی ہوئی عمر اور صحت کے مسائل کے باوجود انہوں نے آخری برسوں تک اپنی شاہی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کی اور تخت سے دستبردار ہونے کے بجائے اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ ان کے بعد ان کے اکلوتے بیٹے ولی عہد ہاکون نے ناروے کے نئے بادشاہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ شہزادہ ہاکون کی اہلیہ میٹے مارٹ ہیں اور ان کے دو بچے شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا اور شہزادہ سورے میگنس ہیں۔ بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال سے ناروے میں ایک ایسے بادشاہ کا دور ختم ہوا جس نے اپنی تقریبا پوری بالغ زندگی ملک کی خدمت اور نمائندگی میں گزاری۔ جنگ کے زمانے میں ایک بچے کی حیثیت سے جلاوطنی سے لے کر ناروے کے تخت تک پہنچنے والے ہیرالڈ پنجم کی زندگی اپنے اندر ناروے کی جدید تاریخ کے کئی اہم ابواب سموئے ہوئے ہے۔ ان کی سادگی، عوام دوستی، کھیلوں سے محبت، رواداری، قومی اتحاد کے لیے کردار اور مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت برقرار رکھی۔








