مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت صوبے کی سات واٹر سینی ٹیشن کمپنیوں کا اجلاس ہوا، جس میں کمپنیوں کے اخراجات کم کرنے، مالی استحکام بہتر بنانے اور ملازمین کے حقوق سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس محکمہ خزانہ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس کا مقصد واٹر سینی ٹیشن کمپنیوں کو مالی طور پر پائیدار بنانے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا تھا۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ہدایت کی کہ صوبے کی تمام واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیوں کے کنٹیجنٹ سٹاف کو ہر صورت صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت ادا کی جائے۔مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم اجرت سے کم تنخواہ دینا ملازمین کے ساتھ زیادتی ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کم از کم اجرت میں اضافے کے مطابق درکار فنڈز محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا فراہم کرے گا۔اجلاس میں تمام کمپنیوں کو اپنی ایکسٹرنل آڈٹ رپورٹس فوری طور پر محکمہ خزانہ کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی، کوہاٹ اور سوات کو غیر ضروری اخراجات کم کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ اس موقع پر مزمل اسلم نے ڈبلیو ایس ایس پشاور کی جانب سے اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات کو سراہا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام سروسز کمپنیوں کے بلنگ نظام کو فوری طور پر آن لائن کیا جائے گا، نظام سے افرادی قوت اور سٹیشنری کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے کمپنیوں کی جانب سے علیحدہ بلنگ سروسز شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔مزمل اسلم نے ہدایت کی کہ نکاسی آب کے نظام کو متاثر کرنے والی تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور ٹی ایم اوز کے تعاون سے کارروائی کی جائے۔انہوں نے سینیٹیشن کمپنیوں کو اخراجات میں کمی، مالی نظم و ضبط اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔







