چرچ کے انتظامی کنٹرول بارے اے سی کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

ہمفری سرفراز پیٹر نے مبینہ طور پر چرچ کے انتظامی کنٹرول سے متعلق اسسٹنٹ کمشنر پشاور کینٹ کے اقدام کو پشاور ہائیکور ٹ میں چیلنج کردیا، لاہور ڈایوسیزن ٹرسٹ ایسوسی ایشن کے مجاز نمائندے ہمفری سرفراز پیٹر نے معظم بٹ ایڈووکیٹ کی تواسط سے دائر رٹ میں اسسٹنٹ کمشنر پشاور کینٹ ، چیف کیپیٹل پولیس آفیسر پشاور، حکومت خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کو فریق بتاتے ہوئے موقف اپنایاکہ 6 اگست 2026 کو تقریبا شام ساڑھے چھ بجے اسسٹنٹ کمشنر پشاور پولیس اور دیگر افراد کے ہمراہ مبینہ طور پر ڈایوسیز آف پشاور کے احاطے میں داخل ہوئے، دفاتر اور چرچ کے دروازوں کے تالے توڑے گئے اور ٹرسٹ کے موجودہ انتظامی کنٹرول میں مداخلت کی گئی۔رٹ میں اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 14 اور 20 کے منافی قرار دیاگیا، رٹ میں مزیدموقف اختیار کیاگیاکہ اس معاملے پر مسیحی برادری نے 7 اگست 2026 کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر سے ملاقات کی، جہاں متعلقہ ایم پی اے اور اسمبلی کے قانونی شعبے کے حکام بھی موجود تھے۔درخواست میں پشاور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ اقدام کو اپنے اختیار سے تجاوز کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور متعلقہ حکام کو ٹرسٹ کی جائیداد کا قانونی قبضہ، انتظام اور انتظامی کنٹرول درخواست گزار کو واپس کرنے کی ہدایت کی جائے۔درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ احاطے میں مبینہ طور پر داخل کیے گئے افراد کو وہاں سے ہٹایا جائے اور معاملے کی قانونی حیثیت واضح ہونے تک درخواست گزار کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کی جائے۔ رٹ پر جلد سماعت کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed