وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ دنوں میں میڈیا پر عمران خان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی تشویشناک رپورٹس اور قیاس آرائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی فیملی اور ان کے ذاتی معالجین کو ان سے فوری ملاقات کی اجازت دی ، اگر جمعرات کے دن بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروائی گئی تو رات 10بجے پورے پاکستان کو ڈی چوک بنا دیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ بروز منگل ہمارے تمام پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان کی فیملی اور ذاتی معالجین کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو بروز جمعرات اڈیالہ جیل جائیں گے۔ اگر اس کے باوجود ہٹ دھرمی جاری رہی اور عمران خان تک رسائی نہ دی گئی تو جمعرات کی رات 10 بجے ملک بھر کے ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیں گے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کا مارچ اپنی جگہ موجود ہے اور تب تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ 27 ستمبر کو پورا پاکستان نکلے گا، پھر کسی کے پاس حالات سنبھالنے کا موقع نہیں ہوگا۔ خیبر پختونخوا ہائو س اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے جرات، بہادری اور ہمت کے ساتھ جیل کاٹی، باوجود اس حقیقت کے کہ وہ کسی جرم میں قید نہیں، انہیں اغوا کیا گیا ہے اور وہ غیر قانونی طور پر ناحق قید ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی ناحق قید ہیں اور انہیں صرف عمران خان کو دباؤ میں لانے اور توڑنے کے لیے جیل میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی صحت بھی خراب ہے، جبکہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے اور آج ہر طرف سے ان کی صحت کے بارے میں رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو وہ مکمل طور پر فٹ اور صحت مند تھے، آج ان کی صحت جس حالت میں ہے، ذمہ داران کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جنہوں نے انہیں گرفتار کیا، جیل انتظامیہ اور موجودہ جعلی حکومت ہے۔ مزید برآں، انصاف فراہم کرنے والے بھی عمران خان کی صحت کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ پوری قوم کو ان کے لیے انصاف کی امید ہے۔ انہوں نے عدلیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ججز سے انصاف کی امید ہے، اگر عدلیہ بھی انصاف فراہم نہ کر سکے تو پھر ملک کس سمت جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید اضطراب کا شکار ہے اور یہ سوال کر رہی ہے کہ اگر ملک کے سابق وزیر اعظم کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو کل عام شہری کے ساتھ کیا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان مزید ظلم، جبر، ناانصافی، بے روزگاری اور مہنگائی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور وہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے خیبر سے کراچی تک ملک کے مختلف علاقوں کا سفر کیا ہے اور نوجوانوں میں جس قدر غصہ، بے چینی اور تبدیلی کا جذبہ وہ دیکھ رہے ہیں، اس کی شدت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں اس وقت جو جذبہ، جوش اور جنون پایا جاتا ہے، اگر یہ کیفیت مزید بڑھی تو اسے سنبھالنا کسی ایک سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان بہت غصے میں ہیں اور ریاستی و سیاسی قیادت کو اس صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنا چاہیے۔ محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ عمران خان کے حوالے سے مطالبات کسی صورت غیر آئینی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مطالبہ صرف یہ ہے کہ عمران خان کا مناسب اور مکمل طبی معائنہ اور علاج ان کی فیملی کی موجودگی اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں بہترین ہسپتال میں کرایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی فیملی اور ذاتی معالجین کو ان سے ملاقات کی اجازت دے کر قوم میں پائی جانے والی تشویش ختم کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو ضد اور ہٹ دھرمی کی بجائے انسانی اور طبی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سے اب بھی انصاف کی امید ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے فوری فیصلہ جاری کیا جائے اور ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔







