اٹلی کی ساپینزا یونیورسٹی کی جدید تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات (مائیکرو پلاسٹک) انسانی خون کے ذریعے دل کی شریانوں میں جمع ہو رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہارٹ اٹیک کا شکار ہونے والے 84 فیصد مریضوں کی شریانوں میں پولی تھین پلاسٹک کے ذرات پائے گئے، جو خون کی روانگی میں رکاوٹ بن کر فالج اور دل کے دورے کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی اس عمل کو مزید تیز کر دیتی ہے، جس کے بعد مائیکرو پلاسٹک اب ماحولیاتی مسائل سے بڑھ کر ایک سنگین طبی بحران بن چکا ہے







