عمران خان رہائی فورس کیس کے حوالے سے آئینی عدالت میں زیر سماعت کیس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔جواب میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست افواہوں اور مفروضوں پر مبنی ہے، اس لیے اسے مسترد کیا جائے کیونکہ یہ قابلِ سماعت نہیں، 8 صفحات پر مشتمل جواب ایڈوکیٹ جنرل کے زریعے جمع کرایا گیا، جس میں وزیراعلی سہیل آریدی کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کبھی قائم نہیں ہوئی، اصل اقدام بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک ہے.وزیراعلی کے تحریری جواب کے مطابق بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جاری سرگرمی کو ایک پرامن رضاکارانہ اور آئینی تحریک قرار دیا گیا ہے۔جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، لہذا درخواست خارج کی جائے۔آئینی عدالت میں عمران خان رہائی فورس کیس کے حوالے سے دائر درخواست پر آئندہ سماعت 29 جولائی کو مقرر ہے، جہاں فریقین کے دلائل سنے جائیں گے، بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ ہے، اس میں کسی مسلح ڈھانچے یا نجی ملیشیا کا وجود نہیں، آئینی درخواست سیاسی مقاصد اور غلط بیانی پر مبنی ہے۔آئینی عدالت میں دائر درخواست کے حوالے سے وزیراعلی نے جواب میں کہا کہ آئینی درخواست قبل از وقت، فرضی اور ناقابلِ سماعت ہے، درخواست گزار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ رہائی تحریک کو آئین کے آرٹیکل 16، 17 اور 19 کا تحفظ حاصل ہے







