ایران اور امریکہ نے ایک دوسرے پر حملے روک دئیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو ایران کے خلاف دو ہفتوں سے جاری حملے روکنے کا حکم دے دیا۔امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق فیصلے سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو گزشتہ روز حکم دیا تھا کہ ایران پر نئے حملے نہیں کریں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرمپ کی یہ ہدایات ایران پر گزشتہ 13 روز سے روزانہ کی بنیاد پر منظور شدہ حملوں کے تسلسل کے دوران سامنے آئی ہیں تاہم یہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کا یہ حکم وقتی طور پر ہے یا برقرار رہے گا۔ویب سائٹ نے بتایا کہ امریکی صدر کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفارت کاری کو موقع دینے کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف اس حقیقت کو بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کیے بغیر امریکا کے فضائی حملے اپنے مقاصد حاصل کرچکے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج ممکنہ بڑے بری آپریشن کے لیے واپسی کے منصوبوں کی تیاری کر رہی ہے لیکن ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی ہدایت تاحال نہیں دی ہے اور وائٹ ہاس نے بھی اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملوں کی روزانہ کی بنیاد پر منظوری دی جاتی تھی اور چند گھنٹوں کے اندر وہ کارروائی عمل میں لائی جاتی رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز ٹرمپ کو ایسا ہی منصوبہ موصول ہوا لیکن انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی جبکہ انہوں نے فوج کو حملے نہ کرنے کی ہدایت کردی۔رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو یہ احکامات جاری کرنے کے فوری بعد وائٹ ہاس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے یا اس کو طول دینے کا آپشن موجود ہے، جس میں سب کچھ تباہ کرنا بھی شامل ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں دانش مندی کے ساتھ حکمت عملی یہی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ایران کے ساتھ بات کر رہے ہیں، میرے خیال میں وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہیں، ہم بھی اس کے لیے واضح اور کارروائی کے لیے تیار ہیں مگر اس کے باوجود ہم ان سے مذاکرات کر رہے ہیں۔بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران اس وقت معاہدے کے لیے تیار ہے لیکن میں ان کی بات سننا چاہتا ہوں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لانے پر خدشات کا اظہار کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے یہ خدشات اس وقت سامنے آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ میں شدت لانے کے امکان پر غور کر رہے تھے۔ جمعہ کی رات سے امریکا نے تقریبا دو ہفتوں تک مسلسل جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد ایران پر بمباری بظاہر روک دی ہے۔ سی این این نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل ڈین کین نے خاص طور پر امریکی اسلحے کے ذخائر اور دیگر ممکنہ منفی اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ ایک ذریعے کے مطابق جنرل ڈین کین نے ٹرمپ کو بتایا کہ امریکی فوج ٹرمپ کے دستیاب آپشنز پر عمل کر سکتی ہے اور کامیاب بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے ممکنہ نتائج سے خبردار بھی کیا۔ذرائع نے بتایا کہ اسلحہ کے ذخائر سے متعلق خدشہ ان کئی خدشات میں سے ایک تھا جو اس اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کے سامنے رکھے گئے۔یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہی خدشات یا جنگ میں شدت کے حوالے سے انتباہ وہ بنیادی وجوہات تھیں جن کی بنا پر امریکا نے مسلسل حملوں کو روکا، یا آیا یہ وقفہ برقرار رکھا جائے گا یا نہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران پر بڑے حملے پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن ذرائع کے مطابق انہوں نے نجی طور پر اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت دی کہ وہ ایران سے بات چیت جاری رکھیں۔متعدد ذرائع امریکی میڈیاکو بتایا کہ ٹرمپ کے قریبی حلقے یا پینٹاگون میں چند لوگوں کو ہی یہ امید ہے کہ ایران جنگ میں شدت لانے سے متوقع نتائج مل سکتے ہیں۔ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے کہا ہے کہ امریکا نے دو راتوں کے دوران اپنے حملے روکے ہیں تو ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امریکا نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے؟ ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ امریکا سٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے تھکن کا شکار ہے، اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں، یہ بات صدر کے فیصلوں اور سینٹکام کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے۔فوجی ترجمان نے کہا کہ حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی کچھ خصوصیات تھیں، جن میں حملوں کا مرکز امریکی ریڈار تنصیبات اور معاونت فراہم کرنے والے مراکز تھے، تاکہ امریکہ کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔جنرل اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس عرصے میں کوشش کی کہ امریکا کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed