پختونخوا قومی جرگے نے فریقین کے درمیان کاروباری تنازعہ حل کردیا

تہکال رحم شیر حاجی مرحوم کے حجرے میں راجولی خان کی زیر میزبانی پختونخوا قومی جرگہ کے مشران صالح محمد، سخاوت شاہ خلیل،ڈپٹی آرگنائزر تپہ خلیل، شیر علی خان، مفتی محمد جہانگیر ، عبدالناصر ایڈوکیٹ، ملک ارشد، ملک جہانزیب, حاجی اورنگزیب، نصرت شاہ، فخر عالم خلیل، جلال بیار خلیل کی انتھک کوششوں سے خالد ایوب فریق اول اور سید جہان کے درمیان عرصہ دراز سے جاری کاروباری تنازعہ خوش اسلوبی اور باہمی رضا مندی سے حل کردیاگیا۔ دونوں فریقین نے جرگہ رویات کے مطابق مشران پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مشران کو مکمل اختیار دیا تھا۔ مشران نے دونوں فریقین کے موقف، تحفظات اور مطالبات کو الگ الگ نشستوں میں سنا اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی۔

مشران اس نتیجے پر پہنچے کہ اصل معاملے کے ساتھ ساتھ دونوں فریقین میں غلط فہمیاں پیدا کرنے میں بعض شرپسند عناصر اور مافیاز کا کلیدی کردار ہے جو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دونوں طرف نہ صرف نفرت کا بیج بو رہے تھے بلکہ اس معاملے کو دشمنی کی طرف دھکیلنے کی مذموم کوشش کر رہے تھے۔ پختونخوا قومی جرگہ کے مشران کیلئے یہ کسی کھڑے امتحان سے کم نہیں تھا کہ اس تنازعے میں پورے پختونخوا قومی جرگہ کے چیئرمین بطور فریق شریک تھے۔ پختونخوا قومی جرگہ نے انصاف کے مطابق جرگہ کے اصولوں، روایات ، باہمی بھائی چارے کے قیام اور تنازعات کو جرگہ کے ذریعے پرامن طریقہ پر حل کرکے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ پختونخوا قومی جرگہ ہر طرح اور پر سطح کے معاملات اور تنازعات کو میرٹ پرحل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آخر میں دونوں فریقین ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئے اور تمام مشران کا شکریہ ادا کیا۔ سید جہان نے غلط فہمیوں کی بنیاد پر مشر کی بے ادبیوں پر باقاعدہ معافی مانگی اور ایک کشر کی حیثیت سے چیئرمین خالد ایوب کے مکمل عزت و اکرام اور ہر مشکل میں خدمت کے لئے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ جرگہ کا اختتام مفتی جہانگیر کے اجتماعی دعا سے ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed