امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران مذاکرات اور معاہدے کیلئے سنجیدہ نہیں ہوتا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے متعدد بار رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدے کیلئے بھیک مانگ رہا ہے۔ امریکا سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم ایران کو اپنی موجودہ پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت اور سفارتی حل کیلئے تیار ہے، لیکن تہران کے اقدامات سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ کسی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران ہر رات اپنی کارروائیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمت ادا کر رہا ہے اور یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا۔ ان کے مطابق اگر ایران واقعی مذاکرات چاہتا ہے تو امریکا بھی بات چیت کے لئے تیار ہے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو واشنگٹن اپنے مفادات اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کرے گا۔مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ عالمی بحری جہاز رانی میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے یا ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران عالمی بحری تجارت کو نشانہ بناتا رہا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید دعوی کیا کہ ایران بار بار معاہدے کرتا ہے لیکن بعد میں خود ہی ان سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اسی لئے عالمی برادری کو ایران کے اقدامات کا عملی جائزہ لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو امید ہے کہ یمن کے حوثی بحری جہازوں پر حملے بند کر دیں گے، کیونکہ ان حملوں سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔مارکو روبیو نے اپنی گفتگو میں جنوبی بحیرہ چین کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تشویشناک ہیں اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔







