ایڈوکیٹ جنرل آفس خیبرپختونخوا میں مبینہ طور پر انتظامی بحران ، تنظیمی مداخلت اور سیاسی کھینچا تانی کے باعث چار اہم لا افسران نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا۔ذرائع کے مطابق تین اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز اور ایک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے استعفے وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو ارسال کر دیے ہیں۔مستعفی ہونے والے افسران میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل انعام یوسفزئی، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل خانزیب، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وجاہت حسین شاہ اور اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نعیم خان شامل ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل آفس خیبرپختونخوا میںلا افسران کے اجتماعی استعفوں کے بعد ایڈوکیٹ جنرل آفس میں انتظامی صورتحال اور قانونی امور کی انجام دہی سے متعلق مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل آفس میں 10 نئے لا افسران کی تعیناتی کردی گئی ہے، جس میں تین ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، چھ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور ایک ایڈووکیٹ آن ریکارڈ شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق عالم خان اندینزئی، سحرش منور اور سیف الرحمن کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا گیا ہے، جبکہ ملک اختر حسین اعوان کو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اسی طرح عابد الرحمن، شاہد خان اور محمد فرقان سمیت یاسر سلیم، محمد عدنان شیر اور سید بلال شفیع اندرابی کو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل تعینات کردیا گیا ہے۔نئے تعینات ہونے والے لا افسران صوبائی حکومت اور مختلف محکموں کے مقدمات کی پیروی میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کی معاونت کریں گے۔







