سوسن کوائل نے آسٹریلیا کی بری فوج کی پہلی خاتون سربراہ کی حیثیت سے چارج سنبھال لیا

رپورٹ : سید عا صم علی قادری (لندن)

آسٹریلیا کی فوجی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب Susan Coyle کو بری فوج کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا، انہوں نے جولائی 2026 میں اس عہدے کا چارج سنبھال لیا۔۔ 21 مئی 1970 کو آسٹریلیا کی ریاست نیو ساتھ ویلز کے چھوٹے سے شہر Kyogle میں پیدا ہونے والی سوسن کوائل ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جہاں فوجی خدمات کا رجحان موجود تھا۔ ان کی بڑی بہن ایلس بھی آسٹریلین آرمی ریزرو میں خدمات انجام دے چکی ہیں، جس سے متاثر ہو کر سوسن نے بھی کم عمری میں فوجی کیریئر کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم Tamworth کے Oxley High School سے حاصل کی، جہاں انہیں Australian Defence Force Academy (ADFA) کی اسکالرشپ بھی ملی۔ بعد ازاں انہوں نے ADFA سے بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی، جبکہ رائل ملٹری کالج Duntroon سے پیشہ ورانہ عسکری تربیت مکمل کرنے کے بعد 1992 میں باقاعدہ طور پر فوج میں کمیشن حاصل کیا۔سوسن کوائل کا فوجی کیریئر نہایت شاندار اور متنوع ذمہ داریوں پر مشتمل رہا ہے۔

انہوں نے Royal Australian Corps of Signals میں خدمات انجام دیتے ہوئے مختلف اہم عہدوں پر کام کیا اور کئی یونٹس کی کمان سنبھالی، ۔انہوں نے افغانستان، مشرق وسطی، ایسٹ تیمور اور سلیمان آئی لینڈز جیسے حساس اور اہم مشنز میں شرکت کی، جہاں ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ 2020 میں وہ Joint Task Force 633 کی کمان سنبھالنے والی پہلی خاتون بنیں، جہاں ان کے زیرِ نگرانی 1200 سے زائد فوجی اہلکار مختلف آپریشنز میں مصروف رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں Conspicuous Service Cross، Distinguished Service Medal اور Member of the Order of Australia جیسے اعلی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے University of Canberra سے ماسٹر آف مینجمنٹ (Defence Studies)، United States Army War College سے ماسٹر آف اسٹریٹجک اسٹڈیز، اور University of New England سے آرگنائزیشنل ڈیولپمنٹ اور اسٹریٹجک ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ذاتی زندگی میں وہ اپنے شوہر مارک کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں، جو خود بھی آسٹریلین آرمی میں انجینئرنگ کور سے وابستہ ہیں، اور ان کے تین بچے ہیں۔۔ ان کی تقرری نہ صرف ان کی ذاتی محنت، قابلیت اور قیادت کا اعتراف ہے بلکہ یہ دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ وہ کسی بھی شعبے میں اعلی ترین مقام حاصل کر سکتی ہیں

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed