پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجازانور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پشاور پولیس کو 45 سے زائد مقدمات میں مطلوب ممتاز عرف ممتازے کی والدہ باغ مینہ کی جانب دائر رٹ پر وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا۔ دو رکنی بنچ نے درخواست گزارہ کی رٹ کی سماعت کی اس موقع پر اس کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ اس کے موکل پولیس کو مختلف کیسز میں مطلوب تھے جسے انٹرپول کے زریعے گرفتار کیا گیا ہے اور پشاو پولیس نے اس حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کیا ہے تاہم اب پشاور پولیس اس کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کررہی ہے انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اس کی والدہ کو خدشہ ہے کہ پشاور پولیس ماورائے عدالت اسے قتل نہ کردیں اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اپ کے پاس ایسے کیا دستاویز ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ اسے انٹرپول کے زریعے گرفتار کیا گیا ہے جس پر وکیل نے عدالت کوبتایا کہ وہ جواب جمع کردینگے جبکہ محکمہ پولیس کے یوسف اورکزئی اور حارث صافی نے عدالت کوبتایا کہ ممتازے کو نہ تو حراست میں لیا گیا ہے اور نہ ہی انٹرپول کے زریعے اسے پاکستان منتقل کیا گیا ہے یہ بات درست ہے کہ وہ 45 سے زائد مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہے تاہم ابھی تک اس کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اپ لوگ اس ضمن میں جواب جمع کریں کیونکہ پولیس کی جانب سے جمع کردہ جواب میں ایسی کوئی تردید نہیں اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ وزارت داخلہ اور ایف ائی اے سے بھی رابطہ کرے اور عدالت کو اگاہ کرے کہ کیا انٹرپول نے ایسی کوئی کاروائی کی ہے اور کیا وہ گرفتار ہے یا نہیں عدالت نے مزید سماعت 12 اگست تک کے لئے ملتوی کردی







