ان لینڈ ریونیو افسران حکم عدولی نہ کریں ‘ جسٹس اعجاز انور

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے کہا ہے کہ ان لینڈ ریونیو کے افسران کو عدالتی احکامات برے لگتے ہیں تو انہیں ہم بلا لینگے عدالت حکم جاری کرتی ہے اور یہ مانتے نہیں اس طریقے کو عدالت برداشت نہیں کرے گی ایک دفعہ عدالت احکامات جاری کرے تو اس میں انکار کی گنجائش نہیں رہتی عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کون عدالتی حکم نہیں مانتا جس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ایڈیشنل کمشنر رومان شاہ عدالتی احکامات نہیں مانتا عدالت نے قرار دیا کہ اگر 21 جولائی تک درخواست گزار کا کپڑے سے بھرا کنٹینر ریلیز نہیں ہوا تو کمشنر ان لینڈ ریونیو خود عدالت میں پیش ہونگے اور اس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے گی۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پر مشتمل رکنی بنچ نے عامر بلال ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر رٹ کی سماعت کی۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اضاخیل ڈرائی پورٹ سے ان کے موکل نے 19 ملین روپے کے عوض کپڑے کا کنٹینرکلیئر کیا اور جوں ہی باہر نکلا تو ان لینڈ ریونیو کے افسران اسکو قبضے میں لیکر ساتھ لے گئے اور چار دن بعد اسے شوکاز نوٹس جاری ہوا ۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ ابھی تک انہیں یہ معلوم نہیں کہ چار دن تک اسے کہا رکھا گیا ۔انہوں نے بتایاکہ عدالت سے رجوع کیا گیا اور عدالت نے 24 جون کو پوسٹ ڈیٹڈ چیک کے عوض کنٹینر ریلیز کرنے کا حکم دیا تاہم جب وہ عدالتی حکم لیکر پہنچے تو ایڈیشنل کلکٹر نے عدالتی احکامات کو نہ مانتے ہوئے کہا کہ کہ وہ کسی عدالتی حکم کو نہیں مانتے پہلے اسے انکم ٹیکس دینا ہو گا حالانکہ بعد کی تاریخ میں چیک بھی ساتھ لے گئے تھے۔ جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ کون ہے کہ جس نے عدالتی حکم کو نہیں مانا درخواست گزار وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ایڈیشنل کمشنر رومان شاہ عدالتی حکم کو نہیں مان رہا اور ابھی تک کنٹینر کو ریلیز نہیں کیا جبکہ وہ پوسٹ ڈیٹ چیک دینے کے لئے تیار ہے اگر اس کے خلاف کسی قسم کا انکم ٹیکس ثابت ہوتا ہے ان سے وصول کرلینگے جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب ایک دفعہ عدالتی حکم ہو جائے اور جو کوئی اسے نہیں مانتا تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ہوگی یہ کوئی طریقہ نہیں اگر اپ عدالتی حکم اتنے برے لگتے ہیں تو اپ کو عدالت بلا لیں گے ۔دوران سماعت ان لینڈ ریونیو کے وکلا نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار حقائق کے برعکس بات کررہے ہیں اور مذکورہ آفسر نے ابھی تک اس قسم کے عدالتی حکم ماننے سے انکار نہیں کیا جس پر فاضل جج نے کہا کہ اگر انہوں نے انکار نہیں کیا تو 22 دن گزرنے کے باوجود عدالتی احکامات پر کنٹینرز کو ریلیز کیوں نہیں کیا یہ تو عدالتی احکامات کے ساتھ مذاق ہے اگر اب عدالتی حکم پر عمل درامد نہیں ہوا تو کمشنر ان لینڈ ریونیو کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے گی اور اگر کنٹینر فوری ریلیز نہیں ہوا تو وہ 21 جولائی کو پیش ہوا عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ پوسٹ ڈیٹیڈ چیک اج ہی پیش کریں اور ان لینڈ ریونیو افسران اج ہی اسکا کنٹینر ریلیز کرنے کے پابند ہونگے عدالت نے مزید سماعت 21 جولائی تک کے لئے ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed