پشاور ہائی کورٹ میں شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی کی سابق طالبہ نے ڈگری اور تعلیمی اسناد روکے جانے کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔ رٹ درخواست سیف محب اللہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی جس مقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزارہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی)کے نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام سے مستفید ہوئی، تاہم یونیورسٹی نے تقریبا ایک لاکھ 30 ہزار روپے واجبات کی ادائیگی سے مشروط کرتے ہوئے اس کی ڈگری، ٹرانسکرپٹ اور دیگر تعلیمی دستاویزات جاری نہیں کیں۔درخواست گزارہ رقیہ یوسف نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ یونیورسٹی کا مطالبہ غیر قانونی قرار دے کر اس کا اسکالرشپ اکانٹ ایچ ای سی ریکارڈ کے مطابق درست کیا جائے، مبینہ واجبات معاف یا ایڈجسٹ کیے جائیں اور فوری طور پر تمام تعلیمی اسناد جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی محتسب نے بھی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا تھا کہ طالبہ کی ٹیوشن فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات اسکالرشپ کے تحت ادا کیے جا چکے ہیں اور یونیورسٹی کو ہدایت کی تھی کہ اسناد جاری کی جائیں







