بنوں’ جیٹ طیاروں کی بمباری’ علاقہ دھماکوں سے گونج اٹھا’ 4 لاشیں برآمد

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سرکلر روڈ اور منڈان سے تین نامعلوم افراد کی قتل شدہ لاشیں برامد ہوئی ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ان میں سے دو لاشیں سرکلر روڈ پر پڑی ملیں جبکہ ایک لاش منڈان پارک کے قریب سے ملی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تین نامعلوم افراد کی قتل شدہ لاشیں برآمد ہونے کے بعد فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔پولیس کی جانب سے ابتدائی تفتیش کے بعد بتایا گیا کہ تینوں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔ضلع بنوں کے مختلف علاقوں نرمی خیل، بکاخیل اور تختی خیل میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہے، جہاں مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ ذرائع نے بتایا ہے کہ دہشتگرد ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری بھی کی گئی ہے۔نرمی خیل مداروپ کے سرکاری سکول پر جٹ طیاروں سے حملہ کیا گیا، اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ طالبان مرکز اور ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھے ذرائع کے مطابق کارروائی دہشتگرد عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ذرائع کے مطابق نرمی خیل، بکاخیل اور تختی خیل میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، اس دوران وقفے وقفے سے شدید دھماکوں کی آوازیں بھی دنی گئی ہیں۔علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات ہے اور سرچ و کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران سنے جانے والے بعض دھماکے مبینہ طور پر دہشتگردوں کے بارودی مواد کے ذخائر پھٹنے کے باعث ہوئے، تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ذرائع کے مطابق بنوں کی تحصیل بکاخیل مداروپ، نرمی خیل کالج پر بمباری کی گئی، جس سے کالج میں مقیم دہشتگردوں کی ہلاکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اس دوران وقفے وقفے سے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مداروپ بکاخیل نرمی خیل کالج دہشتگردوں کے ٹھکانے پر ڈرون سے بھاری بمباری جاری ہے، اس دوران جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔سیکیورٹی فورسز علاقے کو کلیئر کرنے اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں، عوام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ضلع بنوں کے تھانہ میریان پر ہونے والے خودکش حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار نورجمال خان کی نماز جنازہ اقبال شہید پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی، نماز جنازہ میں اعلی پولیس و عسکری حکام، پولیس اہلکاروں، شہید کے اہل خانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔شہید پولیس اہلکار کو سلامی پیش کی گئی جبکہ ان کے جسدِ خاکی پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی، پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو آخری سلام پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔نورجمال خان کی نماز جنازہ میں ڈی آئی جی بنوں ریجن رب نواز خان، کمانڈر 116 بریگیڈ بریگیڈیئر عمیر نیازی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں محمد فرقان بلال سمیت سینئر پولیس افسران، جوانوں اور شہید کے لواحقین نے شرکت کی۔تقریب کے دوران شہید کے درجات کی بلندی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔اس موقع پر ڈی آئی جی بنوں ریجن رب نواز خان نے کہا کہ پولیس کے شہدا قوم کا سرمایہ اور فخر ہیں، انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس اہلکاروں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ڈی پی او بنوں محمد فرقان بلال نے کہا کہ شہدا کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشتگردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔پولیس کے مطابق گزشتہ روز شام کے وقت فتنہ الخوارج سے منسلک دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی تھانہ میریان سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار نور جمال خان شہید ہوگئے۔حملے میں تین پولیس اہلکار، سیکورٹی فورسز کے تین جوان اور چار شہری زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔خودکش دھماکے کے فورا بعد حملہ آوروں نے تھانے میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔شدید فائرنگ کے تبادلے میں متعدد حملہ آور ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ دیگر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔واقعے کے بعد بنوں کے متاثرہ علاقے میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔حکام کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور فرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ٹائون شپ کی حدود میں پولیس اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، سرچ آپریشن کے دوران موٹر سائیکل اور ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد, ڈی پی او بنوں کیپٹن (ر) محمد فرقان بلال بھاری نفری کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچ گئے۔آج دوپہر تھانہ ٹان شپ کی حدود میں بیزن خیل چوک کے قریب ابابیل اسکواڈ معمول کے گشت پر تھا کہ پولیس کا فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہو گیا۔ اس دوران دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گرد قریبی جھاڑیوں کی آڑ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed