طورخم بارڈر کے راستے مزید 3841 افغان باشندے ڈی پورٹ

پشاورسمیت خیبرپختونخواکے راستے ملک کے مختلف حصوں سے غیرقانونی طورپر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے مطابق گزشتہ روز تک طورخم بارڈر کے راستے مزید 3,841 افغان باشندے افغانستان روانہ ہوئے گزشتہ روز 2,601 افغان باشندے رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس گئے، جبکہ 240 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو ڈی پورٹ کیا گیا رپورٹ کے مطابق اسی روز 1,843 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو وطن واپس بھجوایا گیااعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز پی او آر (PoR) کارڈ رکھنے والے 1,400 اور اے سی سی (ACC) کارڈ ہولڈرز میں سے 598 افغان شہری بھی طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس گئے اب تک خیبرپختونخوا کے راستے 929,107 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے واپس جا چکے ہیں، جبکہ 91,892 افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے اب تک 412,016 پی او آر (PoR) کارڈ ہولڈرز اور 109,523 اے سی سی (ACC) کارڈ رکھنے والے افغان شہری بھی اپنے ملک واپس جا چکے ہیں،محکمہ داخلہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے راستے مجموعی طور پر 14 لاکھ 50 ہزار 646 افغان باشندوں کی وطن واپسی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔پاکستانی پاسپورٹ بنانے والے مہاجرین کے قومی کارڈ پاسپورٹس اور خاندانی ریکارڈ کا ازسرنو فرانزک جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ درجنوں پاکستانیوں جو کہ افغان پاسپورٹ پر بیرونی ممالک منتقل ہو چکے ہیں کو بلیک لسٹ قرار دینے کا عمل کر شروع کرتے ہوئے درجنوں پاکستانیوں کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں ایف ائی اے ذرائع کے مطابق مہاجرین کی کاروبار وغیرہ کے بارے میں بھی تفصیلات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے ایف ائی اے کانٹرزٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پاکستانی کارڈز غیر قانونی طور پر بنانے والے مہاجرین کے حوالے سے اہم ریکارڈ حاصل کرنے کا عمل شروع کیا ہے افغان شہریوں کو جعلی خاندانی ریکارڈ سرکاری دستاویزات اور قومی کارڈ میں ریکارڈ میں دو بدل کے ذریعے پاکستانی پاسپورٹ دلانے والے مختلف افراد کی گرفتاری کے بعد جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے ایف ائی اے ذرائع کے مطابق گرفتار سرکاری ملازمین اور پرائیویٹ افراد سے تحقیقات کی جا رہی ہے ایسے پاکستانی خاندانوں کو بھی نوٹسز جاری کی ہے جنہوں نے بھاری رقوم اپنی خاندانی ریکارڈ میں مہاجرین کو شامل کیا ہے پشاور سمیت صوبے بھر میں اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد کو نوٹسز کا اجرا نادرا کی جانب سے کیا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed