پشاور ہائیکورٹ نے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)کے ملازمین کی مستقلی اور سروس اسٹرکچر سے متعلق دائر آئینی درخواست پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام فریقین 14 روز کے اندر اپنا تحریری جواب جمع کرائیں تاکہ آئندہ سماعت پر مقدمے کی مزید کارروائی کی جا سکے۔دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے ایک ہزار 800 سے زائد ملازمین کئی برسوں سے سروس اسٹرکچر سے محروم ہیں، جس کے باعث انہیں ترقی، ملازمت کے تحفظ اور دیگر سروس فوائد حاصل نہیں ہو رہے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں اسی نوعیت کے ملازمین کے لیے متعلقہ اتھارٹی قائم کی جا چکی ہے اور وہاں ملازمین کو مستقل بھی کیا گیا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں ڈبلیو ایس ایس پی ملازمین اب بھی بنیادی سروس حقوق سے محروم ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے ملازمین کے لیے فوری طور پر سروس اسٹرکچر منظور کیا جائے اور انہیں مستقل کیا جائے تاکہ انہیں بھی دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین کی طرح مساوی قانونی اور انتظامی حقوق حاصل ہو سکیں۔







