میڈیسن سیکنڈل’ ملزم کا مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ

احتساب عدالت پشاور نے محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں مبینہ بدعنوانی، مالی خرد برد اور سرکاری فنڈز میں بے ضابطگیوں کے مقدمے میں گرفتار ملزم کامران انجم کو مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب)کے حوالے کر دیا۔احتساب جج محمد حامد مغل نے مقدمے کی سماعت کی، جس کے دوران سپیشل پراسیکیوٹر نیب حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے۔سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کامران انجم دو نجی ادویہ ساز کمپنیوں کے مالک ہیں اور انہیں احتساب عدالت نمبر تین سے عبوری ضمانت مسترد ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے مقف اختیار کیا کہ ملزم نے محکمہ صحت خیبر پختونخوا سے ایک ارب 516 کروڑ 97 لاکھ روپے مالیت کے سپلائی آرڈرز حاصل کیے، جن میں سے ایک ارب 508 کروڑ 36 لاکھ روپے کے آرڈرز مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے جاری کیے گئے۔نیب کے مطابق ملزم نے جعلی ڈلیوری چالان جمع کروا کر ادویات اور طبی آلات کی فراہمی میں سنگین بے ضابطگیاں کیں۔ مزید یہ کہ 98 کروڑ 35 لاکھ روپے مالیت کے معائنے کے دستانوں (ایگزامینیشن گلوز) کی عدم یا جزوی فراہمی کے باعث قومی خزانے کو اب تک ایک ارب 3 کروڑ 45 لاکھ 60 ہزار روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے تفتیش کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے تاکہ مقدمے کے تمام پہلوں پر تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔دلائل مکمل ہونے کے بعد احتساب عدالت نے ملزم کامران انجم کو مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دورانِ ریمانڈ ملزم کے طبی معائنے کو بھی یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed