مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان میں نئی کمپنیوں کے قیام کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں کمپنیوں کی رجسٹریشن میں تقریبا 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ پیش رفت سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور معیشت میں استحکام کی عکاس قرار دی گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جون 2026 کی ماہانہ معاشی جائزہ و پیش گوئی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کے بنیادی اشاریوں میں بہتری، جاری ساختی اصلاحات اور مالیاتی منڈیوں کی مضبوط کارکردگی کے باعث کاروباری سرگرمیوں، نئی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے نگران ادارہ برائے کمپنی رجسٹریشن نے مالی سال 2025-26 کے جولائی سے اپریل تک 36 ہزار 59 نئی کمپنیوں کا اندراج کیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ تعداد 28 ہزار 903 تھی۔ اس طرح نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 24.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران حقیقی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو بڑھ کر 3.7 فیصد رہی جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ محصولات میں اضافے، جاری کھاتوں میں فاضل توازن، روپے کے نسبتا استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے نے کاروباری ماحول کو مزید قابلِ اعتماد بنایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے توسیعی مالی معاونت اور پائیداری پروگراموں پر عمل درآمد نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔ مزید برآں عالمی درجہ بندی کے اداروں کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری، بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں یورو بانڈ کے اجرا اور پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا نے بھی ملکی معیشت پر اعتماد میں اضافہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق بہتر سرمایہ کاری ماحول کا اثر پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی نمایاں رہا جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس مالی سال کے دوران تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ مضبوط مالیاتی منڈیاں اور بہتر مالی حالات نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے حکومتی ہدف کو تقویت دے رہے ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے دوران نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے قرض لینے میں بھی اضافہ ہوا جو کاروباری اداروں کی توسیع اور پیداواری سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی علامت ہے۔ دوسری جانب حکومت کی قرض گیری میں کمی سے بینکاری نظام پر دبا کم ہوا اور نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کی مزید گنجائش پیدا ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 میں برآمدات پر مبنی ترقی، کاروباری مسابقت میں بہتری، ٹیکس کے دائرہ کار میں توسیع، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور کارپوریٹ شعبے کی ترقی کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔ وزارتِ خزانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ معاشی استحکام، جاری اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مسلسل بہتری مزید کاروباری افراد کو اپنی سرگرمیوں کو باقاعدہ قانونی شکل دینے اور نئی کمپنیاں قائم کرنے کی جانب راغب کرے گی جس سے سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور ملک کی طویل المدتی معاشی ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔







