پشاور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طلا محمد نے حیات آباد سے 19 سالہ لڑکی کو اغوا کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں نامزد دو ملزمان آصف اور ایوب عرف سید عارف کی عبوری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، جس کے فوراً بعد پولیس نے دونوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا۔ سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ فریقین کے درمیان راضی نامہ ہو چکا ہے، تاہم پبلک پراسیکیوٹر نے دلیل دی کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365 اور 376-بی ناقابلِ صلح ہیں اور یہ سنگین جرائم پورے معاشرے کے خلاف ہیں۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ متاثرہ لڑکی کو ملزمان کے قبضے سے بازیاب کرایا گیا تھا اور اس کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے، لہٰذا صرف سمجھوتے کا دعویٰ اتنے سنگین کیس میں ضمانت کی بنیاد نہیں بن سکتا۔۔







