پشاور ہائیکورٹ نے جنوبی وزیرستان کے طلبا کے لئے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں مختص نشستوں کے کوٹہ سے متعلق دائر درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے نشستوں کی تقسیم کے پرانے طریقے کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور صوبائی حکومت کو اگلے سیشن سے پہلے نئی اور منصفانہ پالیسی بنانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگرچہ پالیسی سازی حکومت کا اختیار ہے، لیکن جب کوئی پالیسی ظاہری طور پر امتیازی ہوں تو عدالت مداخلت کرنے کا حق رکھتی ہے۔ رٹ کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشدعلی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ عدالت میں درخواست گزار کے وکیل علی گوہردرانی جبکہ صوبائی حکومت کی نمائندگی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کی۔ عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد تحریری فیصلے جاری کردیا ہے۔جسٹس سید ارشدعلی کی جانب سے تحریری کردہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ صوبائی حکومت تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک منصفانہ، معقول اور غیر امتیازی پالیسی تشکیل دیں اور اس نظر ثانی شدہ پالیسی کو اگلے تعلیمی سیشن کے داخلوں کے آغاز سے قبل حتمی شکل دے کر کابینہ سے منظوری لی جائے۔فیصلے کے مطابق نئی پالیسی کو آئینی کے بنیادی اصولوں اور مساوات کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ تمام ضم شدہ اضلاع کے رہائشی افراد اور طلبا کیساتھ انصاف ہو سکے۔جنوبی وزیرستان کے اضلاع (اپر اور لوئر) کے لیے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلوں کے لیے مختص نشستوں سے متعلق رٹ درخواست محمد نصیر سمیت 42 درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کی گئی جو جنوبی وزیرستان لوئر کے رہائشی تھے







