ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نافذ، بینکوں نے کٹوتیاں شروع کردیں

 

ملاکنڈ ڈویژن میں خاموشی سے ٹیکس کا نفاذ کر دیا گیا۔شانگلہ سمیت مختلف اضلاع میں تاجروں، بلڈرز،ٹھیکیدار، سرکاری ملازمین،ٹرانسپورٹرز اور عوامی حلقوں کا شدید احتجاج۔ بینک کے چیکوں سے کٹوتی شروع ہو گئی۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین کی رقوم سے مبینہ کٹوتیوں پر بھی تشویش۔ ملاکنڈ ڈویژن میں یکم جولائی سے ٹیکس کے نفاذ کے بعد شانگلہ سمیت مختلف اضلاع میں تاجروں، سرکاری ملازمین،ٹرانسپورٹرز اور عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے علاقے کی تاریخی اور آئینی حیثیت کے منافی قرار دیا ہیں دوسری جانب بینک چیکوں سے کٹوتیوں کے ساتھ ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین کی قسطوں سے بھی مبینہ طور پر ٹیکس کٹوتیوں کی شکایات سامنے آنے پر متاثرہ خواتین نے بھی شدید احتجاج کیا ہیں۔یکم جولائی سے بینک اکانٹس سے چیکوں کے ذریعے رقوم وصول کرتے وقت 8فیصد تک کٹوتی شروع کر دی گئی۔2اور3 جولائی کو سرکاری ملازمین، تاجر اور دیگر کاروباری افراد جب بینکوں میں چیکوں کے ذریعے رقوم نکلوانے پہنچے تو کٹوتیوں پر صارفین اور بینک عملے کے درمیان شدید بحث و مباحثہ دیکھنے میں آیا۔ اس سلسلے میں مختلف بینکوں کے برانچ منیجرز سے رابطہ کرنے پر انھوں نے بتایا کہ یکم جولائی سے ان کی برانچوں سمیت ملاکنڈ ڈویژن بھر میں ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق ٹیکس نافذ ہو چکا ہیں لہذا نان فائلرز کی جانب سے پچاس ہزار روپے سے زائد رقم چیک کے ذریعے نکلوانے کی صورت میں مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی کٹوتی کی جا رہی ہیں۔اس صورتحال پر تاجروں اور سرکاری ملازمین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع سے منتخب قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر متعلقہ فورمز پر اٹھائیں اور علاقے کے عوام کو اس نئے ٹیکس سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ملاکنڈ ڈویژن، بلخصوص سابق ریاست سوات کے پاکستان میں انضمام کے وقت ریاست سوات اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت اس پورے خطے کو فری ٹیکس زون قرار دیا گیا تھا تاہم اب اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا جو ان کے بقول غیر قانونی اقدام اور علاقے کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہیں۔عوام نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن، بلخصوص سوات، شانگلہ، دیر، بونیر اور دیگر اضلاع گزشتہ کئی دہائیوں سے قدرتی آفات، دہشت گردی، معاشی بدحالی، کمزور تجارتی سرگرمیوں اور دیگر سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں یکم جولائی سے نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام اور کاروباری طبقے پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے جس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہیں۔ادھر دوسری جانب دو جولائی سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستحق خواتین کے لیے جاری ہونے والی قسطوں میں بھی مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ٹیکس کٹوتیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ بعض ریٹیلرز کا کہنا ہیں کہ اگر بڑی رقوم نکالی جائیں تو اس پر8فیصد تک کٹوتی کی جاتی ہیں جبکہ مستحق خواتین کا یہ بھی دعوی ہیں کہ جیسے ہی وہ بائیو میٹرک تصدیق کے لیے انگوٹھا لگاتی ہیں تو متعلقہ ایپ میں ان کی رقوم سے خودکار کٹوتی ظاہر ہو جاتی ہیں۔متاثرہ خواتین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی حکومت، متعلقہ اداروں اور چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مطالبہ کیا ہیں کہ مستحق خواتین کی امدادی رقوم سے ہونے والی مبینہ کٹوتیوں کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور غریب خواتین کو ان کی مکمل رقم بلا کٹوتی فراہم کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے مختص امدادی رقوم میں کسی بھی قسم کی ٹیکس کٹوتی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed