مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ملکی معاشہ صورتحال کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملکی تجارتی خسارہ 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے سے پاکستانی معیشت پر دباو بڑھ رہا ہے۔مشیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 5.97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد مجموعی برآمدات 30.1 ارب ڈالر رہ گئیں۔دوسری جانب درآمدات میں 7.89 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 69.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔مزمل اسلم کے مطابق ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ملک کا تجارتی خسارہ 21.57 فیصد بڑھ گیا اور خطرناک حدیں چھونے لگا، جو معیشت پر دبا میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کا تجارتی خسارہ مجموعی برآمدات کے 133 فیصد کے برابر ہے، جو ایک تشویشناک معاشی عدم توازن ظاہر کرتا ہے۔مزمل اسلم کے مطابق یہ خسارہ ملکی ترسیلاتِ زر کے تقریبا برابر جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے زرمبادلہ ذخائر کے 220 فیصد کے برابر ہے۔







