گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات اور کرایوں میں اضافے کے باعث مہنگائی ہماری توقعات سے زیادہ رہی، میکرو اکنامک اعشاریے معاشی استحکام کی تصدیق کرتے ہیں، رواں مالی سا تیسری سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ زراعت اور صنعتی شعبوں میں نمایاں بہتری ہے۔ ان خیالات کااظہار گورنر سٹیٹ بینک نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال میں میڈیا سے رابطے کو فروغ دیا جائے گا، مانیٹری پالیسی کیلنڈر میں پریس کانفرنسز کی تعداد کو ششماہی سے سہ ماہی کر دیا ہے، کامرس رپورٹرز کیلئے سیشنز اور ورکشاپس کیلئے اقدام لئے جا رہے ہیں ، گزشتہ چار سالوں کو اگر دیکھا جائے تو 2023 میں کافی معاشی دبا تھا جبکہ ہر سال گزشتہ سال سے بتدریج بہتر ہوتا جا رہا ہے۔جمیل احمد نے کہا کہ میکرو اکنامک اعشاریے معاشی استحکام کی تصدیق کرتے ہیں، جی ڈی پی نمو گو کہ توقعات سے کم ہے تاہم اسے سراہنا چاہیئے، ہمارا تخمینہ ہے کہ نظر ثانی شدہ جی ڈی پی نمو 3.7 فیصد سے زائد ہو گی، ہمارا تخمینہ تھا کہ جی ڈی پی نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی تاہم کچھ عوامل نے رفتار کو کم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیسری سہ ماہی میں جی ڈی پی نمو 4 فیصد ہے، زرعی نمو توقعات کے مطابق حاصل نہیں ہو سکی، بڑے پیمانے کی صنعت 6 فیصد سے زائد رہی ہے، مالی سال 26 کے کئی ایسے ماہ بھی رہے جس میں بڑی صنعت 10 فیصد سے بڑھی۔گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ بڑی صنعت کے ساتھ خدمات کے شعبے میں بھی نمو ہو رہی ہے، آئندہ مانیٹری پالیسی کے اجلاس میں نئے مالی سال کے تخمینوں پر روشنی ڈالیں گے، مالی سال 26 کی اوسط افراطِ زر 7.05 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ سٹیٹ بینک کا افراطِ زر کا تخمینہ 5 سے 7 فیصد تھا۔گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اگرچہ پٹرولیم مصنوعات اور کرایوں میں اضافے کے باعث مہنگائی ہماری توقعات سے زیادہ رہی، تاہم جون میں یہ 11 فیصد پر آچکی ہے ،مشرقِ وسطی حالات اور خام تیل کی قیمتوں کے سبب افراطِ زر میں خلفشار رہا، مجموعی افراطِ زر سٹیٹ بینک کے تخمینے کے قریب تھا،آنے والے مہینوں میں افراطِ زر میں کمی واقع ہو گی علاوہ ازیں 2022 میں کرنٹ اکائو نٹ خسارہ 17.5 ارب ڈالر تھا جو جی ڈی پی کا 4.7 فیصد تھا جبکہ 2022 کے کرنٹ اکائو نٹ خسارے نے معاشی مسائل کو ہوا دی۔جمیل احمد نے بتایا کہ رواں مالی سال کے 11 ماہ کا کرنٹ اکائو نٹ 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس ہے، مالی سال 26 کے کرنٹ اکائو نٹ خسارے کی پیشگوئی جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد رہنے کی تھی







