خیبر پختونخوا حکومت نے کالام میں جھیل سیف اللہ کشتی واقعے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی۔اس ضمن میں کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق اسپیشل سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ اسپیشل سیکرٹری خزانہ زبیر احمد کمیٹی کے رکن ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کشتی حادثے کے تمام حقائق، واقعات کی ترتیب اور حادثے کی بنیادی وجوہات کا تفصیلی تعین کرے گی، کمیٹی کشتی کی تکنیکی حالت، حادثے کے وقت موسم، آپریشنل صورتحال اور دیگر متعلقہ عوامل کا بھی جائزہ لے گی۔انکوائری کمیٹی یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا کشتی آپریشن متعلقہ قوانین، اجازت ناموں اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق کیا جا رہا تھا یا نہیں۔اس کے علاوہ کشتی چلانے والے کے لائسنس، اہلیت اور قانونی اجازت سے متعلق تمام پہلوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق حادثے کے وقت لائف جیکٹس، ریسکیو سامان اور دیگر حفاظتی انتظامات کی دستیابی اور مثر استعمال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا،کمیٹی انتظامی، قانونی اور ریگولیٹری خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی جب کہ مستقبل میں سیاحتی اور تفریحی مقامات پر ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے جامع سفارشات بھی پیش کرے گی۔صوبائی حکومت نے انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی مکمل رپورٹ 7 روز کے اندر حکومت کو پیش کرے۔







