وفاقی آئینی عدالت نے صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں تحصیلداروں کو سب رجسٹرار کے اختیارات دینے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل خارج کردی اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق ہے۔ خیبر پختون خوا حکومت کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس ارشادحسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ عدالت میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختون خوا جبکہ سب رجسٹرارز کی جانب سے دانیال اسد چمکنی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے تحصیلداروں کو سب رجسٹرار کے جو اضافی اختیار ات دیئے وہ عارضی ہے اور حکومت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی آفیسر کو اضافی اختیارات سونپ سکتا ہے اس لئے اس میں کوئی غیرقانونی کام نہیں ہوا اور جو حکومتی احکامات ہیں انہیں کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اس حوالے سے اعلی عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں جس میں ایسی چیزوں کو پالیسی میٹر قرار دیا گیا ہے اور جب تک حکومت چاہے ان کو یہ اختیارات دے سکتی دوسری جانب دانیال اسد چمکنی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت مختلف اوقات میں سب رجسٹرارز کے اختیارات تحصیلداروں کو دیتی ہے حالانکہ قانون کے مطابق یا تو اس محکمہ کے اہلکاروں کو ترقی دی جائے گی یا براہ راست پبلک سروس کمیشن کے زریعے ان سب رجسٹرار کا تقرر کیا جائے گا تاہم حکومت تحصیلداروں کو مختلف اضلاع میں سب رجسٹرار کے اختیارات دیتی ہے سب رجسٹرار کا عہدہ گریڈ 14 کا ہوتا ہے اور اس میں محرر کی پوسٹ سے لیکر دیگر متعلقہ سٹاف ترقی پاتا ہے مگر حکومت جب اضافی چارج دیتی ہے تو ان ملازمین کی حق تلفی ہو تی ہے ۔دانیال چمکنی کے مطابق اس ضمن میں 2020 میں صو بائی حکومت نے رولز بنائے ہیں جس میں قرار دیا ہے کہ سب رجسٹرار کا عہدہ یا تو پبلک سروس کمیشن کے زریعے آنے والے افسران سے پر کیا جائے گا یا اس میں سب رجسٹرار آفس میں متعلقہ محکموں کے اہلکاروں کو ترقی دی جائے گی اس لئے یہ کسی صورت درست نہیں کہ سب رجسٹرار کے دفاتر میں کام کرنے والے عملے کی حق تلفی ہوفاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر صوبائی حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا۔







