ہائیکورٹ نے کوہستان مالیاتی سکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کی منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی ضبطگی کے دائر درخواست پر نیب اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیا رٹ درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ احتساب عدالت نمبر 3 پشاور کی جانب سے درخواست گزار کے اثاثوں کی ضبطی کا حکم دیا گیا ہے جبکہ وہ اس وقت سنٹرل جیل پشاور میں زیرِ حراست ہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایاکہ درخواست گزار کوہستان میں سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور خوردبرد کے ایک سکینڈل میں نامزد ہے، نیب نے تحقیقات کے دوران اس کی مختلف منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں منجمد کر دی تھیں،بغیر کسی ٹرائل یا آزادانہ تحقیقات کے اثاثوں کی ضبطی آئین کے آرٹیکل 9، 10اے اور 23 کے خلاف ورزی ہے،احتساب عدالت نے بیک وقت تفتیشی اور عدالتی کردار ادا کئے جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے لہذا عدالت کے 20 مئی 2026 کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے، عدالت نے نیب اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا اور سماعت ملتوی کردی







