پشاور ہائیکورٹ میں آٹو کیس فیکسیشن سسٹم کا آغاز

پشاور ہائی کورٹ میں مقدمات کی مقررکرنے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے آٹو کیس فکسیشن سسٹم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔ اس جدید نظام کا افتتاح چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کیا۔ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل)ہدایت اللہ خان کے مطابق یہ منصوبہ پشاور ہائی کورٹ کے ججز جسٹس وقار احمد اور جسٹس فہیم ولی کی نگرانی میں تیار کیا گیا، جبکہ اس کی تیاری اور نفاذ میں ہائی کورٹ کی آئی ٹی ٹیم اور جوڈیشل برانچ نے مشترکہ طور پر کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد مقدمات کی مقررکرنے کے عمل کو مکمل طور پر خودکار، شفاف اور مثر بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت مقدمات کی ابتدائی مقررگی کے ساتھ ساتھ آئندہ تاریخیں (نیکسٹ ڈیٹس)بھی خودکار طریقے سے مقرر ہوں گی۔ تمام مقدمات کو ان کے نمبر، سینئرٹی اور ہنگامی نوعیت کے مطابق متعلقہ بینچوں کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس سے انسانی مداخلت اور دستی طریقہ کار میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پیر سے جمعرات تک ہر بینچ روزانہ 50 مقدمات کی سماعت کرے گا، جن میں 20 موشن اور 30 نوٹس کیسز شامل ہوں گے، جبکہ جمعہ کے روز ہر ڈویژن بینچ 40 اور ہر سنگل بینچ 30 مقدمات کی سماعت کرے گا۔ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل)کے مطابق ماتحت عدلیہ سے متعلق مقدمات، انتخابی درخواستیں، لارجر بینچ کے مقدمات اور بار کونسل اپیلز کو اس خودکار نظام سے مستثنی رکھا گیا ہے اور ان کی مقررگی سابقہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔ہدایت اللہ خان نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی عدالتی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا آٹو کیس فکسیشن سسٹم ہے، جس کے ذریعے مقدمات کی مقررگی کے روایتی نظام کو جدید خودکار نظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عدالتی کارروائی میں شفافیت، یکسانیت، رفتار اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ مقدمات کے بروقت اور منصفانہ تصفیے میں بھی مدد ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed