پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر فضل حکیم خان کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے سے متعلق نیب کی جاری انکوائری کے خلاف دائر درخواست پر نیب سے 14 روز میں جواب طلب کر لیا ہے عدالت نے ریمارکس دیے کہ انکوائری کو مقررہ مدت ( چھ ماہ )میں مکمل کیوں نہیں کیا گیا اور ایک سال گزرنے کے باوجود معاملہ اب تک انکوائری کے مرحلے پر کیوں ہے؟کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو کنی بنچ نے کی۔ عدالت میں درخواست گزار کے وکیل بشیر وزیر اور عالم خان ایڈوکیٹس جبکہ پراسیکیوٹر نیب ارباب کلیم پیش ہوئے ۔وکلا نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما فضل حکیم خان جو سوات سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں کو اس وقت امدن سے ذیادہ اثاثوں کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ نیب نے مئی 2025 میں ان کے خلاف انکوائری کا آغاز کیا تھا جس کے بعد مبینہ طور پر ان سے صوبائی وزارت کا قلمدان بھی واپس لے لیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے نیب کے نوٹس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مقف اختیار کیا ہے کہ وہ تمام مطلوبہ تفصیلات فراہم کر چکے ہیں اس کے باوجود انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں لگائے گئے الزامات غیر اخلاقی اور بے بنیاد ہیں اور ان کے موکل کو بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہے۔دورانِ سماعت جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ انکوائری کا آغاز کب ہوا؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ یہ انکوائری مئی 2025 سے جاری ہے جس پر جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اب تک انکوائری مکمل کیوں نہیں ہوئی؟”نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر ارباب کلیم اللہ نے عدالت کو بتایا کہ کیس اثاثوں سے متعلق ہے اور فی الحال انکوائری سٹیج پر ہے۔ جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ درخواست گزار کے بھی بنیادی حقوق ہیں اور ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود انکوائری کا مکمل نہ ہونا نیب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ انکوائری آفیسر کو طلب کر کے متعلقہ دستاویزات پیش کی جائیں اور یہ وضاحت کی جائے کہ قانون کے مطابق 6 ماہ میں مکمل ہونے والی انکوائری ایک سال تک کیوں لٹکی رہی۔ عدالت نے نیب کو 14 دن کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔







