پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں مبینہ ڈرون حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 10 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم، حملے کی نوعیت اور اس کی سرکاری تصدیق کے حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق شدید زخمی افراد کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا، اس حوالے سے ہسپتال ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر پانچ زخمی ہسپتال لائے گئے، جن میں تین مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق دو معمولی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ تین زخمی تاحال زیر علاج ہیں۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کی عمریں 15 سے 80 سال کے درمیان ہیں، جن میں 80 سالہ شیر مست، 45 سالہ منور، 15 سالہ مجاہد، 22 سالہ سیما بی بی اور 16 سالہ نیدا بی بی شامل ہیں، یہ تمام افراد حسن خیل کے علاقے شاہ مت خیل کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔مقامی سطح پر اسے مبینہ ڈرون حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، واقعے کی مزید تفصیلات اور سرکاری مقف سامنے آنے کا انتظار ہے۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے پشاور کے علاقے حسن خیل میں پیش آنے والے مبینہ ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانیت سوز، غیر اخلاقی اور انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔میاں افتخار حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔اے این پی رہنما نے کہا کہ واقعے سے متعلق مختلف اور متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے باضابطہ اور واضح مقف سامنے نہیں آیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر حقائق عوام کے سامنے لائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کرائے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے مقف اختیار کیا کہ حکومت کو عوام کے تحفظ اور امن کے قیام پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔اے این پی کے صوبائی صدر نے حسن خیل میں پیش آنے والے مبینہ ڈرون حملہ کے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف دیا جائے، اور شہری آبادی کے تحفظ کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔یاد رہے کہ میاں افتخار حسین نے پشاور کے علاقے حسن خیل میں پیش آنے والے مبینہ ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانیت سوز، غیر اخلاقی اور انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔







